چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ سندھ میں انسانوں کا جینا مشکل ہے تو درخت کیسے رہیں گے۔
سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں دریاؤں اور نہروں کے کنارے شجرکاری سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ سندھ کے سیکرٹری ایری گیشن اور ماحولیات کا عملہ اسلام آباد میں سیر کرنے آتا ہے، کہتے ہیں چلو مری کی سیر ہو جائے گی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ سندھ سے آئے افسران میں کسی کو بھی ایک روپیہ ٹی اے ڈی اے نہیں ملے گا، سارا خرچہ اپنی جیب سے کرنا ہوگا، رپورٹ جمع کراتے نہیں سیر کرنے آجاتے ہیں۔ سرکار کا جتنا خرچہ کر کے سندھ کے افسران آئے اتنے پیسوں میں 50 ہزار درخت لگ جاتے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ سندھ واحد صوبہ ہے جس کے معاملات اور طرح سے چلتے ہیں، ڈاکو پکڑنے کے نام پر لاڑکانہ اور سکھر کے بیچ جنگل کاٹا گیا، سندھ پولیس ڈاکو تو کیا ایک تتلی بھی نہیں پکڑ سکی۔
انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے درخت لگانے اور نئی گج ڈیم سے متعلق کوئی رپورٹ جمع نہیں ہوئی، سیکریٹری جنگلات سندھ سمیت جو عدالت نہیں آئے ہیں سب کو توہین عدالت نوٹس جاری کرتے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ سیکرٹری جنگلات اور ایری گیشن سندھ کے لوگ جیل جائیں گے اور نوکری سے بھی جائیں گے، توہین عدالت میں وکیل کو لاکھوں روپے دینا پڑیں گے ساری جمع پونجی ختم ہوجائے گی۔ دو ماہ گزر گئے لیکن کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔
سیکرٹری جنگلات سندھ نے عدالت سے معافی کی درخواست کرتے ہوئے جلد رپورٹ جمع کرانے کی یقین دہانی کرائی۔