جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینہ عیسیٰ نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں انہوں نے استدعا کی ہے کہ عمران خان کو وزارت عظمیٰ سے ہٹایا جائے۔
اپنی درخواست میں انہوں نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے 3 بچے جب چھوٹے تھے تو انہوں نے ان بچوں کو اپنے انکم ٹیکس گوشواروں میں ظاہر نہیں کیا جس کی وجہ سے عدالت انہیں ان کے دفتر سے ہٹانے کے لیے حکم دے۔
سرینا عیسیٰ نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ ان کی طرف سے پہلے دائر کی گئی نظرثانی درخواست کو بھی منظور کریں۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے 19 جون کو سنائے گئے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف 44 صفحات پر مشتمل نظرثانی درخواست دائر کی تھی۔
انہوں نے درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ ان تمام ججز کو 10 رکنی فل کورٹ میں شامل کیا جنہوں نے صدارتی ریفرنس کے خلاف ان کے شوہر (جسٹس عیسیٰ) کی درخواست پر فیصلہ کیا تھا اور 19 جون کا مختصر حکم جاری کیا تھا۔
انہوں نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ لندن کی 3 جائیدادوں کے معاملے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ان لینڈ کمشنر ذوالفقار احمد کی جانب سے ان کے خلاف کی گئیں تمام کارروائیوں کو کالعدم قرار دیا جائے اور 14ستمبر 2020 کے نوٹیفکیشن کو ختم کیا جائے۔
انہوں نے اپنے خلاف عمران خان کی مبینہ طور پر جاسوسی کے علاوہ ایف بی آر، نادرا، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)، اسٹیٹ بینک پاکستان (ایس بی پی) کی جانب مرتب کیے جانے والے قانونی طور پر محفوظ ریکارڈز تک غیرقانونی رسائی اور انہیں حاصل کرنے کا الزام بھی لگایا۔
انہوں نے عمران خان پر الزام لگایا کہ انہوں نے لندن جائیدادوں کو میرے شوہر کے ساتھ منسوب کیا اور صدر کو ایک پراکسی شکایت کی بنیاد پر ایک ’بوگس‘ ریفرنس دائر کرنے کا مشورہ بھی دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے اپنی سوشل میڈیا ٹیم کو ان کے خلاف پروپیگنڈا شروع کرنے کی ہدایت بھی کی۔