برطانیہ امریکی فارماسیوٹیکل کمپنی فائزر کی تیار کردہ کورونا ویکسین کے استعمال کی اجازت دینے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق حکومت نے فائزر کمپنی کی دوا کے عام استعمال کی منظوری دے دی ہے۔
برطانوی وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان میں کہا ہے کہ ویکسین عام استعمال کے لیے اگلے ہفتے سے متعارف کرائی جائے گی۔
دوسری جانب فائزر نے امریکی ڈرگ اینڈ فوڈ ریگولیڑتی اتھارٹی سے ویکسین کے ہنگامی بنیادوں پر استعمال کرنے کی اجازت طلب کر رکھی ہے۔ ایف ڈی اے کمپنی کی جانب سے دائر درخواست پر فیصلہ 10 دسمبر کو کرے گی۔
برطانوی ریگولیٹر ایم ایچ آر اے کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے مقابل 95 فیصد تک تحفظ فراہم کرنے والی ویکسین استعمال کے لیے محفوط ہے۔ ترجیحی گروپس میں شامل افراد کو ویکسین کی فراہمی کا عمل چند روز میں شروع ہو جائے گا۔
برطانیہ کی جانب سے پہلے ہی چار کروڑ خوراکوں کا آرڈر دیا جا چکا ہے جو دو کروڑ افراد کو دو خوراکیں مہیا کرنے کے لیے کافی ہے۔
فائزر کی جانب سے برطانوی حکومت کی اجازت کے بعد خوشی کا اظہار کیا گیا ہے، کمپنی ترجمان کا کہنا تھا کہ برطانوی حکومت کی جانب سے ہماری ویکسین کے استعمال کی اجازت ملنا کورونا کے خلاف جنگ میں تاریخی لمحہ ہے۔
فائزر کے جرمن پارٹنر بائیو ٹک کا کہنا ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں دوسرے ممالک سے بھی ویکسین کے استعمال کی اجازت حاصل کریں گے۔
یاد رہے امریکی دوا ساز کمپنی فیزر اور ان کے جرمن ساتھی بیون ٹیک نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ان کی ویکسین 90 فیصد سے زیادہ موثر ثابت ہوئی ہے جو کورونا کے خلاف جاری جنگ میں بڑی کامیابی ثابت ہو سکتی ہے۔
گزشتہ ماہ فائزر اور بائیواین ٹیک کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ ابتدائی تجزیے کے مطابق ان کی تیار کردہ ویکسین 90 فیصد سے زائد افراد کو کورونا سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔ اس کے کلینکل ٹرائلز میں 43 ہزار افراد نے حصہ لیا تھا۔
امریکہ کورونا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک بن چکا ہے، امریکہ کی جان ہیپکنز یونیورسٹی کے اعداد وشمار کے مطابق یہ تعداد 99 لاکھ 72 ہزار ہے جب کہ مرنے والوں کی تعداد 237,574 سے تجاوز کر گئی ہے