اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہم نیب جیسے رشوت خور ادارے کو تسلیم نہیں کرتے۔
اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ جب ہم اس ادارے کو تسلیم نہیں کرتے، اس کے نوٹس کی بھی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پارٹی کارکنان اور قریبی رفقاء کو نیب کی جانب سے نوٹس جاری کرنا کردار کشی کی روایتی مہم ہے، ایسے نوٹسز کی کوئی قانونی اہمیت نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے نفسیاتی ہتھکنڈوں سے مرعوب ہونے والے نہیں ہیں، ان شاءاللہ منزل پر پہنچ کر ہی دم لیں گے۔
پی ڈی ایم سربراہ کا کہنا تھا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق اور جمہوری آزادیوں کا تحفظ کرنا سیاسی قیادت کی اولین ذمہ داری ہے اور دنیا کی کوئی قوت ہمیں اس مشن سے روک نہیں سکتی۔
یاد رہے کہ نیب کی جانب سے جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کے قریبی ساتھیوں گل اصغر اور نور اصغر کو 10 دسمبر کو نیب میں پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا گیا تھا۔
ل اصغر اور نور اصغر کی نیب میں طلبی آمدن سے زائد اثاثہ جات، کرپشن اور کرپٹ پریکٹس کے الزام پر کی گئی ہے۔
نیب کے نوٹس کے مطابق دونوں افراد کو 10 دسمبر کو صبح 11 بجے طلب کیا گیا ہے، جہاں کی کمبائن انویسٹی گیشن ٹیم ان سے سوالات کرے گی۔
خیال رہے کہ رواں سال ستمبر میں قومی احتساب بیورو نے آمدن سے زائد اثاثہ کیس میں مولانا فضل الرحمان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا تھا اور اس حوالے سے مختلف امور پر تفتیشی ٹیم تحقیقات کررہی ہے۔
اس ضمن میں جمعیت علماء اسلام کے رہنما حافظ حسین احمد نے نیب کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت اپنی بقا کے لیے نیب کو استعمال کررہی ہے، اپوزیشن رفتارکوتیزکرتی ہے تو نیب بھی حرکت میں آجاتی ہے۔