اسلام آباد کے مرغزار چڑیا گھر میں تنہا رہ جانے والے ہاتھی کاون کو کمبوڈیا پہنچتے ہی نئے ساتھی مل گئے ہیں۔

کمبوڈیا میں کاون کا خیال رکھنے والے حکام نے بتایا ہےکہ ہاتھی نے پہلے ہی دن اپنے پڑوس میں رہنے والے ہاتھی سے سونڈ ملا کر نئے تعلقات کا آغاز کیا ہے۔

جیسے ہی کاون اپنے احاطے میں پہنچا تو اس کی نظر سامنے کھڑے دوسرے ہاتھی پر پڑی جہاں دونوں نے اپنی سونڈ ملاکر ایک دوسرے سے خوشی کا اظہار کیا۔ اس وقت کاون بہت مسرور نظر آیا کیونکہ اسلام آباد میں وہ بہت افسردہ تھا اور دیواروں سے سر بھی ٹکراتا تھا۔
یاد رہے کاون ہاتھی کو 1985 میں سری لنکن حکومت نے تحفے کے طور پر بھیجا تھا لیکن اسے 2002 میں زنجیروں میں باندھ دیا گیا تھا۔

1990 میں بنگلہ دیش سے ایک مادہ ہتھنی سہیلی کو لایا گیا۔ تاہم 2012 میں بھی سہیلی مرگئی اور کاون دوبارہ اکیلا رہ گیا۔
اسلام آباد کے مرغزار چڑیا گھر سے کاون ہاتھی کی کمبوڈیا منتقلی سے قبل الوداعی پارٹی کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں صدر عارف علوی نے بھی شرکت کی تھی۔

ماہرین کے مطابق 34سالہ ہاتھی کاون ذہنی بیماری کا شکار ہے۔عمران خان نے 2015ء میں اس کی رہائی کے حق میں ٹویٹ کی تھی، امریکی گلوکارہ شر کی ٹویٹس بھی تاحال اسے رہائی نہ دلوا سکی۔

اس سے قبل سینئر صحافی رؤف کلاسرا اور عامر متین نے اپنے پروگراموں میں کئی بار اس ایشو کو اٹھایا اور انتظامیہ کی توجہ مبذول کروائی۔ سینیٹرز بھی کاون کی آزادی کے لیے آواز بلند کرتے رہے، وزراء سے بھی ملاقاتیں کی گئیں۔
میئر اسلام آباد انصر شیخ کو بار بار گزارش کی گئی، مارک کے ساتھ میٹنگ کے دوران انصر شیخ نے کاون کو قدرتی پناہ گاہ بھیجنے پر اپنی آمادگی بھی ظاہر کی تھی لیکن اس کے بعد کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
وفاقی وزیر فواد چوہدری کے ساتھ بھی کاون کی آزادی کے لیے ملاقات کی گئی، وعدے سب کی طرف سے ہوئے مگر کسی نے آگے بڑھ کے ساتھ دیا نہ ہی مدد فراہم کی۔
بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات پر اسے باہر بھیجنے کی تیاریاں شروع ہوئیں۔