معروف صحافی و اینکر رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ حکومت پی ڈی ایم کے جلسوں کی وجہ سے کافی دباؤ میں تھی، اوپر سے حکومت کے وزیروں پر کرپشن کے الزامات لگ رہے تھے لیکن سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے بی بی سی کو انٹرویو دے کر حکومت کو سانس لینے کا موقع دے دیا ہے۔
اپنے وی لاگ میں انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار کل کے انٹرویو میں پریشان تھے، کئی جگہ ان سے جواب نہیں بن پایا، انہوں نے غلط بیانیاں بھی کیں، اس سے شریف فیملی کا بیانیہ بہت متاثر ہوا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے پاس اس موضوع پر کہنے کو کچھ نہیں تھا تو انہوں نے عمران خان کا پرانا کلپ چلا دیا جس میں وہ بھی بی بی سی کی ایک خاتون اینکر کے ایک سوال کے جواب میں گڑبڑا گئے تھے۔
اسحاق ڈار کا بیان حلفی
رؤف کلاسرا نے سوال اٹھایا کہ آخر اسحاق ڈار کے پاس ایسی کون سی گیدڑ سنگھی ہے جس کی وجہ سے نواز شریف فیملی ان کا تحفظ کرتی ہے اور وہ ان کے بہت قریب ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اس سوال کا جواب اسحاق ڈار کے اس بیان حلفی میں موجود ہے جو 25 اپریل 2000 کو انہوں نے دیا تھا جب ان کی نیب کے ساتھ ایک ڈیل ہوئی تھی جس میں انہیں معافی مل گئی تھی اور اس کے بدلے انہوں نے شریف فیملی کا تمام کچا چھٹا کھول دیا تھا۔
رؤف کلاسرا نے بتایا کہ اسحاق ڈار نے اس بیان حلفی میں پوری تفصیل سے بتایا کہ شریف فیملی نے کیسے منی لانڈرنگ کی، کس طرح ڈالر اکاؤنٹس کھولے گئے اور 92 میں جو معاشی اصلاحات کا ایکٹ لایا گیا تھا اس سے کیا فائدے اٹھائے گئے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ جب ایٹمی دھماکوں کے بعد ڈالر اکاؤنٹس کو منجمد کیا گیا تھا تو اس سے بھی شریف فیملی کو فائدہ ہوا تھا اور یہ بات بھی اسی بیان حلفی سے سامنے آئی تھی، اسی وجہ سے شہبازشریف ہمیشہ کے لیے اسحاق ڈار کے مخالف ہو گئے تھے اور انہیں سخت ناپسند کرتے تھے۔ اس بیان حلفی میں بھی شہبازشریف پر ہی زیادہ نزلہ ڈالا گیا تھا جبکہ نوازشریف کے متعلق ہاتھ ہولا رکھا گیا۔
رؤف کلاسرا نے وی لاگ میں انکشاف کیا کہ شہبازشریف نے صادقہ نامی خاتون کو منی لانڈرنگ کے لیے استعمال کیا تھا اور یہ بات اسحاق ڈار نے اپنے بیان حلفی میں بتا دی تھی، اس بات سے شہبازشریف بہت ناراض ہوئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ اسی بیان حلفی کی وجہ سےشریف خاندان ابھی تک پیشیاں بھگت رہا ہے۔
قاضی فیملی کو منی لانڈرنگ کے لیے کیسے استعمال کیا گیا؟
رؤف کلاسرا نے تفصیل سے بتایا کہ اسحاق ڈار کے بیان حلفی میں قاضی فیملی کا ذکر ہے جن کے ساتھ ان کا تعلق لندن کے دور میں بنا تھا اور جنہیں بعد میں شریف خاندان کی منی لانڈرنگ کے لیے استعمال کیا گیا۔
قاضی فیملی کے سربراہ کے سیاست میں آنے کے شوق کو شریف فیملی نے منی لانڈرنگ کے لیے کس طرح استعمال کیا، یہ ایک دلچسپ اور آنکھیں کھول دینے والی روئیداد ہے جس کی تفصیل رؤف کلاسرا کے وی لاگ میں سنی جا سکتی ہے۔
صادقہ نامی خاتون کون تھیں؟
رؤف کلاسرا کے مطابق اسحاق ڈار کے بیان حلفی میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ کس طرح شہباز شریف نے انہیں بلا کر کہا کہ انہیں یو اے ای کا کوئی شہری چاہیئے جس کے ذریعے منی لانڈرنگ کی جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ اسحاق ڈار نے صادقہ سید نام کی ایک خاتون تلاش کی اور ان کے ساتھ معاملات طے کر کے ان کے اکاؤنٹ سے منی لانڈرنگ شروع کی گئی۔ اس حیران کن معاملے کی تفصیل بھی وی لاگ میں دیکھی جا سکتی ہے۔