سی سی پی او لاہور عمر شیخ سے اختلافات کے بعد ڈی آئی جی انویسٹی گیشن شہزادہ سلطان کے تبادلے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
پنجاب حکومت نے انتظامی معاملات کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا ہے۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن اور سی سی پی او کے درمیان اختلافات اس وقت شروع ہوئے جب سی سی پی او نے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔
اس حوالے سے ایک سینئر پولیس افسر کا کہنا تھا کہ سی سی پی او، شہزادہ سلطان کے تفتیشی ونگ میں دلچسپی نہ لینے پر خود سے بے چینی محسوس کر رہے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی آئی جی اپنے ڈیپارٹمنٹ کو مکمل وقت نہیں دے رہے اور اسی مسئلے نے دونوں کے درمیان اختلافات کو بڑھا دیا۔
یاد رہے شہزادہ سلطان ان 50 پولیس افسران میں شامل تھے جنہوں نے عمر شیخ کی بطور سی سی پی او کی تعیناتی کے خلاف ستمبر میں سینٹرل پولیس آفس میں اجلاس منعقد کیا تھا۔
اس اجلاس کے مشترکہ اعلامیے پر جب دستخط کئے گئے تھے تو ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سی سی پی او کے سخت ناقدین میں سے ایک تھے۔
پولیس افسر کے مطابق سی سی پی او لاہور نے حال ہی میں اعلیٰ حکام سے اپنے سخت تحفظات کا اظہار کیا تھا اور ان کے تبادلے کا مطالبہ کرتے ہوئے متبادل کے طور پر ان کے بقول ایک پیشہ ور پولیس افسر تعینات کرنے کا کہا تھا۔
پولیس افسر کا کہنا تھا کہ سی سی پی او کی جانب سے انویسٹی گیشن کے کچھ پولیس عہدیداروں کے خلاف مقدمات درج کرکے انہیں سلاخوں کے پیچھے بھیجنے کے اقدام نے بھی شہزادہ سلطان کو مشتعل کیا تھا اور انہوں نے ان اقدامات کو غیرضروری قرار دیا تھا۔
شہزادہ سلطان چوتھے پولیس افسر ہیں جن کا عمر شیخ کے بطور سی سی پی او لاہور چارج سنبھالنے کے بعد تبادلہ کیا جا رہا ہے۔
اس سے قبل سابق انسپکٹر جنرل پولیس شعیب دستگیر کو بھی عمر شیخ سے اختلافات کی بنا پر عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔