سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور شاہی خاندان کے دیگر دو ارکان کو پاکستانی حکومت کی جانب سے تلور یا ہوبارا بسٹرڈ کے شکار کی اجازت دے دی گئی ہے۔
شاہی خاندان کے افراد کو 21-2020 کے شکار سیزن میں بین الاقوامی تحفظ کے حامل پرندے تلور کے شکار کا اجازت نامہ جاری کردیا۔
حکام کے مطابق شکاریوں کو بلوچستان اور پنجاب کے مخصوص علاقوں میں شکار کی اجازت دی گئی ہے۔
دوسری جانب وزارت خارجہ کی جانب سے تلور کے شکار کا تحریری اجازت نامہ جاری کرتے ہوئے پروٹول کا خیال نا رکھنے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں سعودی سفارت خانے کو بھیجی گئی شکاریوں کی فہرست میں سب سے طاقتور شخص اور سعودی عرب کے اصل حکمران محمد بن سلمان کا نام سب سے نیچے درج تھا۔
یاد رہے کہ سرد وسط ایشیا کے سرد خطوں میں رہنے والے تلور نامی پرندے ہر سال جنوب کے گرم ماحول کی جانب ہجرت کرتے ہیں جنہیں سعودی شہزادے اور شیخ خصوصی طور پر شکار کرنے آتے ہیں۔
ان شکاریوں کو حکومت وقت خصوصی اجازت نامے جاری کرتی ہے۔
اس سے قبل رواں سال اکتوبر میں خلیجی ممالک سے لائے گئے ہزاروں تلور صحرائے چولستان میں چھوڑ دیے گئے تھے۔
ان پرندوں کی افزائش نسل خلیجی ریاست میں پنجروں میں کی گئی تھی۔
ان نایاب پرندوں کو تلور کے تحٖفظ کے لیے قائم بین الاقوامی فنڈ یعنی انٹرنیشنل فنڈ فار ہوبار کنزرویشن (آئی ایف ایچ سی) کے مطابق ان پرندوں کو خصوصی پرواز کے ذریعے پاکستان لائے جنہیں قرنطینہ میں رکھنے اور معائنہ کرنے کے بعد جانوروں کی صحت کے محکمے نے سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا۔
عوامی تنقید
عرصہ دراز سے سعودی شہزادے اور شیخ ان پرندوں کے شکار کے لیے پاکستان کا رخ کرتے ہیں۔
شاہی خاندان کے افراد کو اس نایاب پرندے کے شکار کی اجازت دینے پر عوام ہمیشہ سخت ردعمل کا اظہار کرتی رہی ہے۔
وزیراعظم عمران خان اس سے قبل اپوزیشن کا حصہ رہنے کے دوران سابقہ حکومتوں کو تلور کے شکار کی اجازت دینے پر تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔
عمران خان نے خیبرپختوا میں حکومت کے دوران کسی سعودی شیخ کو تلور کے شکار کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔