حکومت نے عوام تک کورونا ویکیسن کی جلد رسائی ممکن بنانے کیلئے اس کے کلینکل ٹرائل کیلئے رضا کاروں کی تعداد کو دگنا کر دیا ہے، ماہرین کا خیال ہے کہ مقامی آبادی کی شمولیت سے ہونے والی تحقیق کے نمونے کا حجم بہت معنیٰ رکھتا ہے۔
ویکسین کیلئے رضا کاروں کی تعداد کو 10 ہزار سے بڑھا کر 18 ہزار کر دیا گیا ہے۔
اسی طرح یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ ٹرائل رواں ماہ مکمل کر لیے جائیں گے تاکہ ویکسین کی رجسٹریشن کا عمل شروع ہو سکے۔
یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا ہے کہ جامع تحقیق یقینی بنانے کیلئے نمونے کا حجم بڑھا دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک 9 ہزار رضا کاروں کو کورونا ویکسین لگائی جا چکی ہے۔
ڈاکٹر جاوید اکرم کے مطابق مختلف نسلوں پر مختلف اثرات مرتب ہوتے ہیں، اس لیے پاکستانی عوام پر ویکسین کی افادیت دیکھنا بہت بہتر ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ٹرائلز کی رفتار بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے اور ہمیں امید ہے کہ یہ رواں برس کے اختتام پر مکمل ہوجائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ٹرائل کا عمل مکمل ہوتے ہی ویکسین کی رجسٹریشن کا عمل شروع ہو جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ویکسین کو اس وقت رجسٹرڈ کیا جائے گا جب یہ ثابت ہو جائے کہ یہ پاکستانی قوم کے بہترین مفاد میں ہے۔
واضح رہے گزشتہ برس اگست میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان نے ملک میں کووڈ 19 کی ویکسین کے کلینکل ٹرائل کی منظوری دی تھی جس کے بعد تیاریاں شروع ہوگئی تھیں اور گزشتہ برس ستمبر میں پاکستان نے کووِڈ 19 ویکسین کے کلینکل ٹرائل شروع کردیے تھے۔
اب ملک کے مختلف شہروں میں ٹرائل جاری ہیں اور چین کے اشتراک سے تیار کردہ ویکسین یہ دیکھنے کے لیے استعمال کی جارہی ہے کہ کیا اس سے 18 سال کی عمر سے زائد اور 60 سال سے کم عمر افراد میں اینٹی باڈیز پیدا ہوتے ہیں؟
قومی صحت کے ایک عہدیدار کے مطابق پاکستان زیادہ تر چینی ویکسین پر انحصار کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان نے 15 کروڑ ڈالر ویکسین کیلئے مختص کئے ہیں، تاہم کسی بھی دوا ساز کمپنی کو اس ضمن میں تاحال کوئی ادائیگی نہیں کی گئی ہے۔