فائزر بائیو ٹیک کورونا ویکسین کی پہلی کھیپ برطانیہ پہنچ گئی ہے، ویکسین کو بیلجیئم سے منفی 70 ڈگری درجہ حرارت پر برطانیہ لایا گیا جسے اب نامعلوم مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
برطانیہ نے اپنے 2 کرو شہریوں کیلئے ویکسین کی 4 کروڑ خوراکیں تیار کرنے کا حکم دیا ہے۔
یاد رہے فائزر بائیوٹیک ویکسین کی پہلی خوراک لیے جانے کے 12 دن بعد جسم میں وائرس کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
21 ویں روز دوسری خوراک دی جاتی ہے، جبکہ 28 ویں دن مذکورہ ویکسین کورونا وائرس کے خلاف 95 فیصد تک تحفظ فراہم کرتی ہے۔
صحت کے سیکرٹری میٹ بینکوک نے کورونا ویکسین کے برطانیہ پہنچنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام شہریوں کے لیے ویکسین کی فراہمی اگلے سال ممکن ہو سکے گی۔
انہوں نے کہا کہ ویکسین کی پہلی کھیپ برطانیہ پہنچ چکی ہے تاہم باقی کئی لاکھ خوراکیں دسمبر میں پہنچیں گی۔
اس حوالے سے این ایچ ایس انگلینڈ کے چیف ایگزیکٹو سر سائمن کا کہنا ہے کہ زیادہ خطرے کا شکار تمام افراد کو نئی ویکسین لگانے میں اپریل تک کا وقت لگ سکتا ہے۔
وبائی امراض کے ماہر امریکی ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے اپنے اس بیان پر معافی مانگی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ برطانیہ نے فائزر کو کورونا وائرس ویکسین کی منظوری دینے میں جلد بازی کا مظاہرہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میرا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ برطانیہ نے کسی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ برطانیہ سائنسی اور ریگولیٹری نقطہ نظر سے کیسے کام کرتا ہے انہیں اس پر بہت حد تک اعتماد ہے۔
واضح رہے کہ برطانیہ کورونا ویکسین کی منظوری دینے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔