چین کے پاس 2025 تک بھارت سے ڈیڑھ گنا زیادہ رقبے پر مشتمل موسمیاتی تبدیلیوں کا مربوط نظام ہوگا جس کے ذریعے موسم کو کنٹرول کیا جا سکے گا۔
چینی اسٹیٹ کونسل کے گزشتہ ہفتے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق چین کے پاس2025 تک موسمیاتی تبدیلیوں کا مکمل نظام ہوگا۔ یہ منصوبہ 55 لاکھ اسکوئر کلومیٹر پر محیط ہے جو کہ بھارت کے مکمل رقبے سے ڈیڑھ گنا زیادہ ہے۔
اس بڑے قدم کے پیچھے نہ صرف بنیادی سائنسی تحقیقات اور ٹیکنالوجی کے میدان میں اہم پیش رفت کا ہاتھ ہے، بلکہ خطرات سے بچاؤ کی تراکیب میں بہتری بھی اس منصوبے کی کامیابی کی وجوہات میں شامل ہے۔
اگلے پانچ سالوں میں کل رقبہ جہاں مصنوعی بارش یا برف باری ممکن ہوگی وہ 55 لاکھ اسکوئر کلومیٹر تک پہنچ جائے گا۔ بیان کے مطابق یہ منصوبہ زرعی پیداوار بڑھانے، کسی قسم کی آفت کے اثر کو کم کرنے، جنگلوں اور چراگاہوں میں آگ لگنے کی صورت میں ایمرجنسی کارروائی کرنے اور غیر معمولی درجہ حرارت کو قابو میں رکھنے میں مدد دے گا۔
دنیا کے باقی ممالک میں بھی سائنسی ترقی تیزی سے جاری ہے، چائنہ میں ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے رجحان نے کئی ممالک، خاص کر بھارت، میں اضطراب پیدا کر دیا ہے۔
بھارت کی زرعی پیداوار کے ایک بڑے حصے کا انحصار مون سون پر ہے جو اب موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث قابل بھروسہ نہیں رہا۔ کچھ عرصہ پہلے بھارت اور چین کے درمیان ان کے مشترکہ بارڈر پر جھڑپ بھی ہوئی، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان حالات مزید کشیدہ ہوئے۔
بھارت کے کچھ تحقیق دانوں کا یہ کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کا یہ منصوبہ مستقبل میں چین کی بھارت کے خلاف بالادستی کو مضبوط کرنے میں مدد دے گا۔