سینئر صحافی اور معروف اینکر رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ شہباز شریف نے پیرول پر رہائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گرینڈ ڈائیلاگ کی بات کی ہے، یہ اگرچہ بظاہر غیرمعمولی بات نہیں لگتی مگر کچھ دیگر معاملات کو دیکھا جائے تو اس کی معنی خیزی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
اپنے وی لاگ میں رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ بدھ کو ایک ٹی وی شو میں لیگی رہنما خواجہ آصف نے بھی نیشنل ڈائیلاگ کی بات دہرائی ہے، انہوں نے کہا کہ میڈیا کو بیٹھ کر یہ مکالمہ کرانا چاہیئے۔ یہ بھی حیرت انگیز بات تھی۔
انہوں نے کہا کہ اسی طرح مریم نواز نے بھی چند روز قبل کہا تھا کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں اگرچہ انہوں نے اس کے لیے عمران خان کی حکومت کے خاتمے کی شرط رکھ دی تھی مگر اسے سودے بازی کے نکتہ نظر سے دیکھا جا سکتا ہے۔
رؤف کلاسرا کے مطابق یہ سب باتیں آپس میں جڑی ہوئی ہیں اور ان سے تجزیہ کار اندازے لگا سکتے ہیں کہ درپردہ کچھ نہ کچھ ضرور چل رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چوہدری نثار علی خان کی شہبازشریف سے اکیلے میں ملاقات ہوئی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ملاقات کے لیے نوازشریف کو کال کی گئی اور فون پر ان سے اجازت لی گئی جو انہوں نے دے دی تھی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ چوہدری نثار اور مریم نواز کے درمیان شروع سے ہی تعلقات کشیدہ رہے ہیں، چوہدری نثار فوج اور عدلیہ پر تنقید کرنے کے خلاف تھے جس کی وجہ سے مریم نواز کا کیمپ ان کا مذاق اڑاتا تھا۔
رؤف کلاسرا نے یاد دلایا کہ ماضی میں نوازشریف جب فوج کے ساتھ خفیہ ملاقاتیں اور ڈیل کرنا چاہتے تھے تو وہ چوہدری نثار اور شہباز شریف کو یہ کام سونپتے تھے، اب ان کے پاس کوئی اور ایسا شخص نہیں ہے جو یہ کام کر سکے۔
انہوں نے کہا کہ اب مسلم لیگ (ن) کی حکمت عملی تبدیل ہوتی نظر آ رہی ہے، مریم نواز نے بھی ملتان کے جلسے میں عمران خان کو ہدف تنقید بنایا اور نواز شریف کافی دنوں سے خاموش ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کچھ ہفتے قبل این ڈی یونیورسٹی میں ایک بریفنگ کے دوران آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید سے ملکی صورتحال پر سوال کیا گیا تو انہوں نے ایک فقرے میں جواب دیا کہ ان مسائل کا حل نیشنل گرینڈ ڈائیلاگ کے ذریعے ممکن ہے۔
رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ ان سب باتوں کو دیکھا جائے تو صورتحال واضح ہونی شروع ہوتی ہے تاہم سوال یہ ہے کہ کیا عمران خان اس تجویز کو مان لیں گے؟ وہ جن سیاستدانوں کو ڈاکو اور لٹیرے کہتے ہیں، ان کے ساتھ بیٹھ کر مذاکرات کیسے کریں گے؟ ان کا پورا سیاسی بیانیہ خطرے میں پڑ جائے گا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ نوازشریف نے آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف کے خلاف جو سخت تقاریر کی ہیں وہ ایسا نہیں کرنا چاہتے تھے مگر انہیں بتایا گیا کہ مریم نواز جس وقت جیل میں تھیں تو ان کے باتھ روم اور کمرے میں کیمرے لگائے تھے۔
رؤف کلاسرا نے کہا کہ اس بات کا علم ہونے پر نوازشریف بھڑک اٹھے تھے اور انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کو اس کا ذمہ دار سمجھتے ہوئے کشتیاں جلانے کا فیصلہ کیا، اس کے بعد انہوں نے پہلی سخت تقریر کر ڈالی تھی اور پھر اس سلسلے کو جاری رکھا۔
انہوں نے کہا کہ نون لیگ کے بہت سے رہنما نوازشریف کے اس بیانیے سے اختلاف رکھتے تھے اگرچہ وہ کھل کر بات نہیں کرتے تھے مگر اندرونی خبریں یہی تھیں۔
رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ اگر ان تمام معاملات کو ملا کر دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ کچھ نہ کچھ کھچڑی پک رہی ہے، لیکن سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا عمران خان بھی مکالمے کے لیے تیار ہیں؟ یہ بات بہت مشکل لگتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان بات نہیں مانتے تو کیا ان کا کوئی متبادل ہے؟ کیا ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آ سکتی ہے؟ لگتا ایسا ہے کہ آنے والے دنوں میں صورتحال واضح ہونا شروع ہو جائے گی۔