وزیراعظم نے بلین ٹری منصوبے کی مکمل تفصیلات عدالت کو دینے کی ہدایت کر دی۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے معاون خصوصی موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے ملاقات کی جس میں بلین ٹری منصوبے کی ڈرون فوٹیج اور مستند تصاویر کا ریکارڈ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اس موقع پر وزیراعظم نے بلین ٹری منصوبے کی مکمل تفصیلات اعلیٰ عدالت کو فراہم کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ منصوبے کی مکمل تفصیل اور شفافیت سے آگاہ کیا جائے۔
ملک امین اسلم نے کہا کہ عالمی اداروں نے بلین ٹری منصوبے میں شفافیت کا اعتراف کرلیا ہے اور ہم عدالت کو بھی تمام تر تفصیلات فراہم کر نے کے بعد مطمئن کرلیں گے۔
سپریم کورٹ میں حکومت کے بلین ٹری منصوبے پر سوالات اٹھائے گئے تھے، سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معذرت کے ساتھ خیرپختونخوا کا محکمہ جنگلات میں سارا عملہ چور ہے، نتھیا گلی، مالم جبہ اور مری سمیت کہیں درخت نہیں، کے پی کا بلین ٹری سونامی منصوبہ کہاں ہے؟
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد انتظامیہ بڑی مغرورہے، اسلام آباد میں 5 لاکھ درخت کہاں لگائے ہیں؟ سارے درخت بنی گالہ میں ہی لگائے ہوں گے۔
اس موقع پر عدالت نے سیکرٹری موحولیات کے پی کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو تو سیدھا جیل بھیج دینا چاہئے۔
عدالت نے کہا کہ ناران کاغان کچرا بن چکا، جھیل کے اطراف کوئی درخت نہیں، نتھیا گلی میں درخت کٹ رہے ہیں اور پشاور میں تو موجود ہی نہیں، اسلام آباد سے کراچی تک دریاؤں کے کنارے کوئی درخت نہیں۔