پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا 13 دسمبر کو لاہور میں ہونے والا جلسہ اس وقت میڈیا پر زیربحث ہے، اس میں اپوزیشن جماعتیں اپنا بھرپور زور لگا رہی ہیں جبکہ حکومت اسے ایک چیلنج جان کر مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے۔
لاہور روایتی طور پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کا گڑھ سمجھا جاتا ہے اس لیے یہاں بڑی تعداد میں عوام کو لانا اس جماعت کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ مریم نواز جلسہ کامیاب کرانے کے لیے متحرک ہو گئی ہیں۔
انہوں نے اپنی جماعت کی خواتین سینیٹرز اور ارکان اسمبلی کو جلسے میں خواتین کی بڑی تعداد لانے کا ہدف دے دیا ہے۔
اس حوالے سے ذرائع نے بتایا ہے کہ مریم نواز نے خواتین ارکان کی کارکردگی پر بھی اظہار برہمی کیا ہے اور کہا ہے کہ جو کام نہیں کرے گی، وہ گھر جائے گی۔
ذرائع کے مطابق مریم نواز نے خواتین رہنماوں سے ہونیوالی میٹنگ میں واضح کیا کہ جو خواتین رہنما کام نہیں کرتی اور صرف سیلفی گروپ ہیں، ان کے بارے میں جانتی ہیں اور اب ایسے کام نہیں چلے گا۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ وہ خود 13 دسمبر کے جلسہ کے حوالے سے نگرانی کر رہی ہیں اور جو کام نہیں کرے گی وہ گھر جائے گی اور آئندہ الیکشن میں اسے ٹکٹ نہیں ملے گا، چاہے انہیں اس حوالے سے شہباز شریف سے خود بات کیوں نہ کرنا پڑے۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ وہ آج اکیلی اس جلسہ کو کامیاب بنانے کیلئے کام کر سکتی ہیں تو آپ خواتین کیوں نہیں کر سکتیں؟
انھوں نے کہا کہ جن خواتین رہنماؤں نے پارٹی فنڈ جمع نہیں کرایا ان کی فہرست آ چکی ہے، انہیں خود احساس کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ تمام خواتین سینیٹرز اور ارکان اسمبلی میں جلسہ گاہ میں حاضری لگائی جائے گی ، ہر رکن 100، 100 خواتین اپنے ساتھ لائیں۔