روس میں کورونا کی دوسری لہر شدت اختیار کرتی جا رہی ہے جس کے بعد حکومت نے دارالحکومت ماسکو کے شہریوں کو بڑے پیمانے پر مقامی طور پر تیارکردہ ویکسین، اسپتنک فائیو، لگانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق شہر کے 70 کلینکس میں یہ ویکسین عوام کو لگائی جا رہی ہے۔
کورونا وائرس ٹاسک فورس نے کہا ہے کہ سب سے پہلے ڈاکٹروں اور طبی عملے کے دیگر افراد کو لگائی جائے گی، اس کے ساتھ ساتھ اساتذہ اور سماجی کارکنوں کو بھی ویکسین لگانے کے عمل میں پہلی ترجیح دی جا رہی ہے۔
یہ عمل اس وقت شروع کیا گیا ہے جب روس میں کورونا وبا کی دوسری لہر شدید تر ہو رہی ہے اور نئے کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے۔
ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانین کا کہنا ہے کہ ویکسین لگانے کا عمل شروع ہوتے ہی پہلے 5 گھنٹوں میں 5 ہزار افراد نے اس کے لیے خود کو رجسٹر کیا، ان افراد میں اساتذہ، ڈاکٹرز اور سوشل ورکرز شامل ہیں، ان افراد کو وائرس لگنے کا خدشہ سب سے زیادہ ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق لوگوں کو سینٹرز کے باہر طویل قطاروں میں اپنی باری کے انتظار میں کھڑے دینا ہے۔۔
ایک سینٹر کے باہر 42 سالہ انشورنس ورکر نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’میں یہ یقینی بنانا چاہتا ہوں کہ کورونا مجھے اور میرے عزیزوں کو متاثر نہ کرے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ وہ دوبارہ معمول کے مطابق جم جانا چاہتے ہیں اور اپنی زندگی معمول کے مطابق گزارنا چاہتے ہیں۔
اب تک روس دو قسم کی ویکسین تیار کر چکا ہے، سپوتنک فائیو کے لیے رشین ڈائرکٹ انوسٹمنٹ فنڈ نے کی ہے جبکہ دوسری سربیا کے ویکٹر انسٹی ٹیوٹ نے تیار کی ہے، دونوں ویکسینز کے حتمی ٹرائلز ابھی ہونا باقی ہیں۔
روس نے سب سے پہلے کورونا ویکسین بنانے کا اعلان کیا تھا مگر اس دعوے پر عالمی سطح پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا، سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ اتنی تیزی سے ویکسین تیار کرنے پر خدشات موجود ہیں۔
اب روس نے حتمی ٹرائلز مکمل ہونے اور ان کے نتائج آنے سے قبل ہی بڑے پیمانے پر اس کے استعمال کی اجازت دے دی ہے۔
سپوتنک فائیو انجیکشن کے ذریعے مریضوں کو دو مرحلوں میں دی جائے گی۔ پہلی ویکسین کے بعد دوسری 21 روز کے بعد دی جائے گی۔
محکمہ صحت کے حکام کے مطابق ہفتے کو روس میں 28 ہزار 782 نئے کیسز سامنے آئے جس کے ساتھ کل متاثرین کی تعداد 24 لاکھ 31 ہزار 731 ہوگئی ہے۔ روس کیسز کے حساب سے وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ممالک میں چوتھے نمبر پر ہے۔