امریکی سنٹر فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ کورونا کے ہائی لیول ٹرانسمیشن فیز میں داخل ہو چکا ہے۔ وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی کے مطابق جنوری کورونا کے حوالے سے بہت خطرناک ہو گا۔
سی ڈی سی نے کورونا سے بچاؤ کی نئی احتیاطی تدابیر جاری کرتے ہوئے لوگوں کو تمام اندرون خانہ سرگرمیوں کے دوران بھی ماسک پہننے کی ہدایت کی ہے۔
سی ڈی سی کی طرف سے نئی پبلک ہیلتھ گائیڈ لائنز جمعہ کے روز امریکہ میں کورونا کے ریکارڈ نئے کیس اور اموات کے سامنے آنے کے باعث جاری کی گئیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ایک ہی دن میں 2500 اموات ہوئیں جب کہ 2 لاکھ 25 ہزار نئے کیس سامنے آئے۔
امریکہ میں اب تک کورونا سے کل 2 لاکھ 78 ہزار اموات ہو چکی ہیں جب کہ ایک کروڑ 43 لاکھ کیسز سامنے آ چکے ہیں۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکی عوام کو کورونا ویکسین لگوانے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ ان کی حلف برداری کی تقریب پر کورونا کو مد نظر رکھتے ہوئے بڑے ہجوم جمع نہیں ہوں گے۔
امریکی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ بخوشی اپنے عوام کے سامنے کورونا ویکسین لینے کے لئے تیار ہیں تاکہ اس حوالے سے غلط فہمیوں کو دور کیا جا سکے۔ جو بائیڈن نے ماسک پہننے پر ایک مرتبہ پھر زور دیا۔
امریکی صدر کا یہ بیان سی ڈی سی کی طرف سے تازہ احتیاطی تدابیر جاری کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
فائزر کمپنی کی طرف سے یہ دعوٰی کیا گیا ہے کہ کورونا کے خلاف ان کی ویکسین 95% تک موثر ہے۔ بدھ کے روز برطانیہ پہلا ملک بن گیا تھا جس نے فائزر کی ویکسین کو منظور کیا۔
امریکی نائب صدر مائیک پینس نے ایٹلانٹا سی ڈی سی کے دورہ پر کہا کہ کورونا ویکسین کی وفاقی منظوری ڈیڑھ ہفتے کے اندر ممکن ہو سکتی ہے۔
کورونا سے متاثر ہونے والے ممالک میں فی الحال امریکہ سب سے اوپر ہے، جب کہ 96 لاکھ مریضوں کے ساتھ بھارت دوسرے نمبر پر اور 65 لاکھ مریضوں کے ساتھ برازیل تیسرے نمبر پر ہے۔