کورونا کی عالمی وبا کے باعث بھارتی معیشت بری طرح کساد بازاری کا شکار ہو چکی ہے جس کے اثرات عام آدمی کی زندگی پر بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔
بھارت میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر صبح 6 بجے کیا جاتا ہے، سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیاں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کر کے عوام کی جیبوں سے پیسے نچوڑ رہی ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق آج بھارت میں پیٹرول کی قیمت میں 27 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے جبکہ ڈیزل کا فی لیٹر نرخ 73 پیسے بڑھا دیا گیا ہے جس کے بعد پیٹرول 83.13 روپے فی لیٹر (180.29 پاکستانی روپے) ہو گیا ہے جبکہ ڈیزل کی ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 73.32 روپے (159.01 پاکستانی روپے ) پر پہنچ گئی۔
گزشتہ 15 روز میں مارکیٹنگ کمپنیوں نے پیٹرول کی قیمت میں 13 مرتبہ اضافہ کیا ہے جبکہ اس دوران ڈیزل کی قیمت بھی 3 روپے فی لیٹر بڑھا دی گئی ہے۔
ممبئی میں پیٹرول 26 پیسے اضافے کے بعد 89.78 روپے فی لیٹر (194.71 پاکستانی روپے) اور ڈیزل 27 پیسے اضافے کے بعد (79.93 روپے فی لیٹر (173.35 پاکستانی روپے) ہو گیا ہے۔
دہلی میں پیٹرول کی قیمت 83.13 روپے فی لیٹر ( 180.29پاکستانی روپے) اور ڈیزل 73.32 روپے فی لیٹر (159.01 پاکستانی روپے) ہے۔
چنئی شہر میں پیٹرول کا نرخ 86.00 روپے فی لیٹر(186.51 پاکستانی روپے) اور ڈیزل 78.69 روپے فی لیٹر (170.66پاکستانی روپے) ہو گیا ہے۔
کلکتہ میں پیٹرول 84.63 روپے فی لیٹر (183.54پاکستانی روپے) اور ڈیزل76.89 فی لیٹر(166.75 پاکستانی روپے)
بھارت میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ یہ ہے حکومت نے پیٹرول پر 10 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 13 روپے فی لیٹر ایکسائز ڈیوٹی بڑھا دی تھی۔
یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیئے کہ عالمی مارکیٹ میں کورونا وائرس کے باعث تیل کی قیمت میں تاریخی کمی آئی ہے مگر اس کے ثمرات بھارتی حکومت نے عوام تک نہیں پہنچائے۔