بھارتی ریاست آندھراپردیش میں پراسرار بیماری پھیلنے سے ایک شخص ہلاک ہو گیا جبکہ 227 اسپتال پہنچ گئے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مریضوں میں متلی اور غشی کے دورے پڑنے کے ساتھ بے ہوشی کی علامات سامنے آئی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ بیماری کی وجوہات کے متعلق تحقیق کی جا رہی ہے، یہ پراسرا بیماری ایلور کے پورے قصبے میں پھیل گئی ہے۔
یہ بیماری اس وقت پھیلی ہے جب بھارت کورونا وبا سے بری طرح متاثر ہے، مریضوں کی تعداد دنیا بھر میں امریکہ کے بعد بھارت میں زیادہ ہے۔۔
آندھرا پردیش کی ریاست میں کورونا کی شدت برقرار ہے جہاں اب تک 8 لاکھ مریض سامنے آ چکے ہیں۔
تاہم موجودہ پراسرار بیماری کی وجہ کورونا وائرس نہیں ہے، ریاست کے وزیر صحت کا کہنا ہے کہ تمام مریضوں کا کورونا ٹیسٹ منفی آیا ہے۔
ایلورو کے سرکاری اسپتال کے ترجمان کے مطابق جو لوگ بیمار ہوئے ہیں ان میں خصوصاً بچوں نے پہلے آنکھوں میں جلن کی شکایت کی اور پھر اچانک انہیں قے آنا شروع ہو گئی، مریضوں میں بعض بیہوش ہو گئے جبکہ کئی کو دورے پڑنا شروع ہو گئے۔
70 مریضوں کو اسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے جبکہ 157 ابھی تک زیرعلاج ہیں۔
ریاست کے وزیراعلیٰ جگن موہن ریڈی کا کہنا ہے کہ خصوصی طبی ٹیم کو ایلورو بھیج دیا گیا ہے تاکہ وہ بیماری کی وجوہات کا تعین کر سکیں۔ انہوں نے خود بھی جلد مریضوں اور ان کے خاندانوں کے پاس جانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔
وزیرصحت نے کہا ہے کہ مریضوں کے خون کے نمونے لیے گئے ہیں مگر ان میں کسی قسم کی وائرل انفیکشن کی علامات نہیں پائی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ بیماری نہ ہی خراب پانی یا آلودہ ہوا کے باعث نہیں پھیلی، یہ پراسرار بیماری ہے جس کے متعلق لیب میں کیے گئے تجزیے کے بعد کچھ کہا جا سکتا ہے۔