پانچ بچوں کو نہر میں پھینکنے والے سنگدل باپ ابراہیم نے پولیس کو دیئے گئے اپنے اعترافی بیان میں کہا ہے کہ مجھ سے بڑا ظلم ہو گیا ہے، بچوں کی یاد ستاتی ہے۔
ملزم نے پولیس کو بتایا کہ بچوں کو دھکا دیتے وقت انہوں نے شور نہیں کیا، اگر وہ شور کرتے تو شاید مجھے ان پر ترس آ جاتا۔
ملزم کا کہنا تھا کہ بیوی سے تلخ کلامی اور جھگڑے پر طیش میں آ گیا تھا، رشتہ داروں کے طعنوں نے یہ کام کرنے پر مجبور کیا۔
دوسری جانب نہر میں پھینکے جانے والے تین بچوں کی تلاش تاحال جاری ہے۔
یاد رہے کہ اٹاری ورک کے رہائشی رکشہ ڈرائیور نے بیوی سے جھگڑے پر اپنے 5 کمسن بچوں کو جمبر نہر میں پھینک دیا تھا۔
وقوعہ کے دن ابراہیم کی بیوی لڑائی کے بعد اپنے میکے جمبر آگئی تھی وہ بچوں کے اصرار پر انھیں ملانے صبح جمبر گیا اور وہاں پھر دونوں میں لڑائی ہوئی جس پر تعش میں آکر واپسی پر ابراہیم نے اپنے 5 بچوں کو نہر میں پھینک دیا تھا۔
دو بچوں کی لاشیں برآمد ہوگئیں جبکہ تین کی تلاش جاری ہے۔ نہر سے نکالے گئے بچوں کی شناخت 4 سالہ فائزہ اور 2سالہ محمد احمد کے نام سے ہوئی جبکہ باقی تین بچوں میں 5سالہ زین،7سالہ نادیہ اور 3سالہ تاشا شامل ہیں۔