• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
منگل, مئی 19, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

مسلح ملیشیا کے متعلق وزارت داخلہ کے مراسلے پر فضل الرحمان کا سخت ردعمل

by sohail
دسمبر 7, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

گزشتہ دنوں وزارت داخلہ کی جانب سے ایک مراسلہ جاری کیا گیا ہے جس میں صوبائی حکومتوں کو سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی تشکیل دی گئی ‘ملیشیاز’ کے افعال کا جائزہ لینے کے لیے ضروری اقدامات کی ہدایت کی تھی۔

جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اس مراسلے پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلح گروہ اور رضاکار میں فرق ہوتا ہے۔

جے یو ائی (ف) کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے وزارت داخلہ کے مراسلے کو ایک رجسٹرڈ جماعت کو دباؤ میں لانے کی کوشش قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ نوٹس بدنیتی پر مبنی ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ جان بوجھ کر ایک نان ایشو کو ایشو بنایا جا رہا ہے، انصارالاسلام جے یو آئی کا ایک دستوری ونگ ہے اور اس کے رضاکار الیکشن کمیشن سے رجسٹرڈ ہیں۔

اعلامیے کے مطابق سربراہ جمعیت علمائے اسلام کا کہنا تھا کہ ہم نے 2001 میں لاکھوں افراد کے جلسے کیے، اس وقت کے وزیر داخلہ نے ہمارے رضا کاروں کی منصوبہ بندی کو سراہا، مزید یہ کہ 2017 میں بھی ہم نے جلسے کیے اور اںصارالاسلام کے رضاکاروں نے سیکیورٹی دی۔

انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت نے ہمیشہ پرامن رہنے کا ثبوت دیا ہے اور اس کی تازہ مثال آزادی مارچ ہے جس میں ایک گملا تک نہیں ٹوٹا۔

بیان میں مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ڈنڈے کی کوئی رجسٹریشن نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کا کوئی لائسنس ہوتا ہے۔

یاد رہے کہ وفاقی وزارت داخلہ نے چاروں صوبوں سمیت گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے چیف سیکریٹریز کو مراسلہ ارسال کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ‘مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ کچھ سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے اپنی ملیشیاز قائم کر رکھی ہیں جو نہ صرف وردی پہنتی ہیں بلکہ مسلح افواج یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرح ان میں درجہ بندی بھی ہے’۔

مراسلے میں مزید کہا گیا تھا کہ یہ ملیشیاز اپنے آپ کو ایک عسکری تنظیم کی طرح سمجھتی ہیں جو آئین کی دفعہ 256 اور نیشنل ایکشن پلان کے نکات (نمبر 3) کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

مراسلے میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا کہ اس قسم کی چیزوں کو اگر دیکھا نہ جائے تو یہ سیکیورٹی کی پیچیدہ صورتحال کو مزید سنگین بنا سکتی ہیں، اس کے علاوہ اس مسئلے کا ملک کے قومی اور بین الاقوامی تشخص پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔

نومبر 2019 میں وفاقی حکومت نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کی ذیلی تنظیم ‘انصار الاسلام’ پر پابندی عائد کردی تھی۔

وفاقی کابینہ نے انصار الاسلام پر پابندی کی منظوری دی اور کابینہ ارکان سے تنظیم پر پابندی کی منظوری بذریعہ سرکولیشن لی گئی۔

Tags: مولانا فضل الرحمانوزارت داخلہ
sohail

sohail

Next Post

سپریم کورٹ نے افغان مہاجرین کا بڑا مسئلہ حل کر دیا

ریڈ زون میں فائرنگ کرنے والے جج کو برطرف کر دیا گیا

بھارتی ڈراموں کی معروف اداکارہ دیویا بھٹناگر کی کورونا کے باعث موت

عمران خان نے ٹوئٹر پر سب کو ان فالو کر دیا، سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی

عبدالحفیظ شیخ کابینہ کمیٹی کے سربراہ نہیں ہوسکتے، اسلام آباد ہائیکورٹ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In