متحدہ عرب امارات کے شاہی خاندان کے فرد شیخ حماد بن خلیفہ نے 30 کروڑ شیکل (14 ارب 75 کروڑ روپے) میں اسرائیلی فٹ بال کلب بیطار یروشلم کے 50 فیصد شیئرز خرید کر لیے ہیں۔
بیطار یروشلم کلب آج تک کسی عرب کھلاڑی کو اپنی ٹیم میں جگہ نہ دینے کی وجہ سے کئی دہائیوں سے تنازعوں کا شکار رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کلب کے مداحین اور فینز میں بھی نسل پرستی کا عنصر دیکھنے کو ملتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حماد بن خلیفہ کے اس قدم کے بعد کلب کا مالک ازخود ایک عرب بن گیا ہے۔
ایک اسرائیلی اخبار کے مطابق ڈائریکٹرز کا ایک نیا بورڈ تشکیل دیا جائے گا جس میں شیخ حماد بن خلیفہ کا بیٹا محمد بن حماد بن خلیفہ بھی شامل ہوگا جو کہ شیخ کے نمائندے کے طور پہ منظرعام پر رہے گا۔
کلب کے مالک موشے ہوگیگ اور شیخ کے درمیان معاہدے میں ثالث کا کردار ادا کرنے والی کاروباری شخصیت ناؤم کوئن کا کہنا ہے کہ رہنماؤں کے درمیان امن کی صورتحال قوموں کے درمیان امن کا سبب بنتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے ذریعے بیطار کلب کو یورپین میدان میں شہرت ملے گی اور یہ دنیا کی بہترین ٹیموں کے ساتھ مقابلہ کرنے کے قابل ہوجائے گا۔
کوئن نے مزید اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین معاہدے کے بعد دونوں ممالک کی طرف سے کاروباری معاہدوں کو فروغ مل رہا ہے۔
ہو سکتا ہے کہ کلب انتظامیہ ان ضروری فنڈز کے ذریعے ٹیم کو ایک بالکل مختلف سمت میں منتقل کر دے اور اسے ایک تازہ شروعات دے سکے۔
یاد رہے کہ یہ معاہدہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے کہ جب متحدہ عرب امارات کی طرف سے اسرائیل کی جانب بہتر تعلقات کے لئے ہاتھ بڑھایا گیا ہے۔ دونوں ممالک کے مابین تعلقات معمول کی طرف لے جانے کے لئے دوطرفہ کوششیں جاری ہیں۔