سینئر صحافی طاہر ملک نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کے لاہور جلسے میں نواز شریف 3 شخصیات کے استعفوں کا مطالبہ کریں گے، ان میں وزیراعظم عمران خان، پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی چیف جنرل فیض حمید شامل ہیں۔
جی این این کے ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں جانتی ہیں کہ جلسے میں لوگوں کی تعداد زیادہ ہونے سے حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑتا اس لیے تین شخصیات کے استعفوں پر زور ہو گا۔
طاہر ملک کا کہنا ہے کہ نواز شریف اراکین اسمبلی کے استعفوں کے ساتھ ساتھ سندھ اسمبلی کو بھی توڑنا چاہتے ہیں، مریم نواز اور ان کے والد نے وقت سے پہلے ہی سخت لب و لہجہ اختیار کر لیا ہے۔
حامد میر کا تجزیہ
معروف صحافی حامد میر کا کہنا ہے کہ آصف زرداری اور نواز شریف کے درمیان 4 مرتبہ فون پر بات ہوئی ہے مگر اسمبلیوں سے استعفیٰ پر اتفاق نہیں ہوا، تحریک عدم اعتماد کی صورت میں اسٹیبلشمنٹ عمران خان کے ساتھ کھڑی رہے گی۔
سی حوالے سے سینئر صحافی حامد میر کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستان میں سیاسی درجہ حرارت بڑھے گا،بلکہ شاید سیاسی درجہ حرارت بڑھنے سے بھی کچھ زیادہ ہونے والا ہے۔نواز شریف کی حالیہ تقریر اور مریم نواز کا لب و لہجہ دیکھ کر لگتا ہے کہ انہوں نے قبل از وقت بہت سخت رویہ اختیار کر لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ نواز شریف نہ صرف حکومت پر دباؤ ڈال رہے ہیں بلکہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کو بھی دباؤ میں لا رہی ہے۔
حامد میر کے مطابق ایک بات پر پی ڈی ایم کا اتفاق ہے کہ ہم نے اسلام آباد پر حملہ کرنا ہے۔ اگر یہ اسلام آباد پر حملہ آور ہوتے ہیں تو ظاہر ہے صرف عمران خان کے استفعے کا مطالبہ تو نہیں کیا جائے گا۔ میرے خیال سے دو تین اور شخصیات کے بھی استفعے مانگے جائیں گے جس سے حالات بگڑ سکتے ہیں۔