بھارت میں نئے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے کسانوں نے ملک گیرہڑتال کی کال دے دی۔
منگل کے روز ہونے والی اس ہڑتال کے آغاز کے ساتھ ہی حکومتی وزرا اور کسانوں کے درمیان ان نئے قوانین پر تحفظات دور کرنے کا تیسرا ناکام دور مکمل ہو جائے گا۔
کسانوں نے ملک بھر میں کئی گھنٹوں تک اہم شاہراہوں اور ریلوے لائنز بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس احتجاج کو نہ صرف ریلوے کارکنان، ٹرک ڈرائیورز اور اساتذہ یونینز کی حمایت حاصل ہے بلکہ کم و بیش 15 اپوزیشن گروپس نے بھی اس ہڑتال کے حق میں بیان جاری کیے ہیں۔
کسانوں کی بہت بڑی تعداد نے پچھلے 12 دنوں سے بھارتی حکومت کی جانب سے لاگو کردہ زرعی قوانین کے خلاف نئی دلی کے گردونواح میں احتجاج کا آغاز کیا ہوا ہے۔ حکومت کی جانب سے شہر میں داخلے کی جگہوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی تھی۔
ملک گیر ہڑتال کی کال کے بعد حکومت نے ملک کی اہم سڑکوں پر بھی سیکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے ہیں۔
ہریانہ اور پنجاب کی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے احتجاجی کسانوں کا کہنا ہے کہ جب تک حکومت نئے زرعی قوانین کو منسوخ نہیں کرے گی، یہ احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔ کسانوں کے بقول ان قوانین کے ذریعے نجی کمپنیوں کا زرعی شعبے پر تسلط قائم ہوجائے گا جس کے باعث مستقبل میں وہ کسانوں کو قیمتیں کم کرنے پر مجبور کریں گی۔
اس کے برخلاف حکومت کا کہنا ہے کہ ان نئے نافذ کردہ قوانین کے ذریعے زرعی شعبہ مضبوط ہوگا اور یہ کہ ان سے کسانوں کی آمدنی کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔
تاہم کسانوں کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ اگر بڑی کاروباری کمپنیز کو مال خریدنے اور قیمتیوں کا تعین کرنے کا اختیار دیا گیا تو اس سے کسانوں کی زمینیں اور آمدنی خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔
نئے زرعی قوانین کے تحت نجی کمپنیز کو غلہ ذخیرہ کرنے کی طاقت مل جائے گی جس کے ذریعے وہ اگر چاہیں تو مستقبل میں قیمتیں بڑھا کر مال بیچ سکیں گی۔
اس سے پہلے یہ اختیار صرف سرکاری نمائندوں کو حاصل تھا۔ ان قوانین کے ذریعے کسانوں کو بھی اپنا مال سیدھا بڑی کپمنیز اور کاروباری افراد کو بیچنے کا اختیار مل جائے گا۔
ان قوانین کے لاگو ہونے سے پہلے منڈی نظام کے تحت کسان اپنا سامان سرکار کی طرف سے متعین شدہ قیمتوں پر تھوک کے داموں بیچتے تھے۔