راولپنڈی کے علاقے شکریال میں واقع نجی یونیورسٹی میں نفسیات کی تعلیم حاصل کرنے والی طالبہ ایمن شفیق کی پراسرار موت کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر ایمن کے ساتھیوں کی طرف سے ان کی موت پر شک و شبہات کا اظہار کر کے پولیس کو اس جانب متوجہ کیا گیا تھا۔
سٹی پولیس آفیسر(سی پی او) محمد احسن یونس نے واقعے کا نوٹس لیا اور فوری تحقیقات کا حکم دیا۔ اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) صادق آباد طاہر ریحان کی جانب سے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
صادق آباد پولیس نے ایمن شفیق کے شوہر اور ساس کے بیانات ضبط تحریر میں لانے کے بعد ابتدائی رپورٹ درج کر لی ہے۔
ان بیانات میں یہ کہا گیا ہے کہ ایمن کی موت فطری تھی اور دائر کیے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔
مزید اطلاعات کے مطابق امکان ہے کہ موت کی اصل وجہ جاننے کے لیے طالبہ کے پوسٹ مارٹم کی درخواست عدالت میں دائر کی جائے گی۔
ایمن شفیق کی ساتھی طالبہ لاریب نیازی نے ٹوئٹر پر سی پی او کو مخاطب کر کے کہا تھا کہ اس واقعے کی جلد از جلد ایف آئی آر درج کی جائے۔ ان کی ٹویٹ میں مزید لکھا تھا کہ یہ واقع نیو شکریال میں پیش آیا تھا اور یہ کہ یہ واقعہ 4 دسمبر کو راجا ٹاؤن میں واقع مرحومہ کے سسرالیوں کے رہائشی مکان میں پیش آیا تھا۔
لاریب نیازی کے بقول ایمن اپنی شادی شدہ زندگی سے ناخوش تھیں اور اکثر دوستوں کے ساتھ اس بارے میں بات کیا کرتی تھیں۔ طالبہ کی تدفین کے بعد اس معاملے پر ایمن کے ساتھیوں کی طرف سے آواز اٹھائی گئی اور سینیئر پولیس افسران کی توجہ مذکورہ واقع کی طرف دلائی گئی تھی۔
پولیس کے مطابق انہیں طالبہ کی موت کے متعلق کسی بھی موقع پر آگاہ نہیں کیا گیا تھا اور یہ کہ موت کے بعد ایمن کے گھر والوں نے ان کی تدفین کر دی تھی۔ عدالت کی طرف سے پوسٹ مارٹم کی اجازت ملنے کے بعد قبر کشائی کی جائے گی۔