کے ایچ ایم گروپ کی جانب سے وزیر اعظم پاکستان کے کامیاب نوجوان ویژن کو آگے بڑھاتے ہوئے ایک اجلاس منعقد کیا گیا جس میں کے ایچ ایم گروپ کی سبسڈری کمپنی ماسٹر مائنڈز آڈٹ اکاؤنٹس اینڈ ٹیکسیشن کے زیرِ اہتمام پورے پاکستان میں کارپوریٹ ٹریننگ کورسز کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
اس موقع پر کے ایچ ایم گروپ کے سی ای او خالد نواز نے کہا کہ ہماری ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ ملک پاکستان کے نوجوانوں کا مستقبل روشن بنانے کے لیے ہر طرح کی ممکنہ حکمتِ عملی پر کام کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہماری ہر طرح سے بھرپور کوشش ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ افراد کو ہر طرح کے بزنس کے قانونی معاملات سے نہ صرف آگاہی دیں بلکہ ایک پروفیشنل ٹیکس اور لیگل پریکٹیشنر کی طرح تربیت دیں تاکہ وہ کاروبار میں آنے والی ہر رکاوٹ اور قانونی مشکل کو بخوبی سمجھ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کاوش کے پیچھے ہمارا مقصد ملک میں نوجوانوں میں خود کے کاروبار کو فروغ دینا اور ہماری نوجوان نسل کو کاروبار کے لئے قانونی معاملات سے گھبرائے بغیر فیصلہ کرنے کی طاقت دینا ہے۔
اسکے ساتھ ساتھ خالد نواز نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو پاکستان کے شفاف اور منصفانہ طور پر کام کرنے کے لئے بہت ضروری ہے کہ ہماری نوجوان نسل ٹیکس اور کمپنی پر لاگو قوانین کو احسن انداز میں سمجھنے کے قابل ہو۔
انہوں نے وزیرِ اعظم عمران خان کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان میں ٹیکس کے نظام کو بہتر بنانا ہے اور ایک معاشی طور پر مستحکم ملک بنانا ہے تو عوام کو تمام قانونی اور ٹیکس معاملات کو بہترین انداز میں سمجھنے کی ضروت ہے نہ کہ سرکاری افسران کی تبدیلی اسکے لیے کارآمند عمل ہے۔ تاکہ کاروبار میں مددگار اداروں جیسے ایف بی آر سے ڈرنے کے بجائے انکو اپنا مددگار سمجھ کر آگے بڑھنا آسان بنایا جا سکے۔۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس کے قوانین کو نہ جاننے کی وجہ سے ہم بہت سارے معاملات میں راہ فرار اختیار کرتے ہیں، اپنے آپ کو مسائل میں گیر لیتے ہیں اور کاروبار کرنے کو مشکل تصور کرتے ہیں اور رہی سہی کسر قانونی معاملات کی عدم آگہی پورا کر دیتی ہے، جب کہ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ جب بھی قانون بنتا ہے وہ عوام کی فلاح کے لئے بنایا جاتا ہے ۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہماری کوشش ہے کہ ہم نوجوانوں کو سیلف ایمپلائمنٹ کے قابل بنائیں اور ملک میں بیروزگاری کے خاتمے کے ساتھ ساتھ ملکی ترقی میں بھی حکومت کے شانہ بشانہ اپنا احسن کردار ادا کریں۔
خالد نواز کا کہنا تھا کہ کے ایچ ایم گروپ کی ہمیشہ سے اولین ترجیح رہی ہے کہ پاکستان کے نوجوانوں کے بہترین مستقبل کے لئے مواقع فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔ اس کاوش میں ہمارا مقصد پاکستان میں ٹیکس ایڈوائزرز کی تعداد کو بڑھانا اور عوام کے لیے ٹیکس اور قانونی معاملات میں آسانی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو سیلف ایمپلائمنٹ کی طرف راغب کرنا اور انہیں پلیٹ فارمز مہیا کرنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس امر کے لیے کے ایچ ایم گروپ اور MasterMindz کے زیر سرپرستی ہمارے تربیت یافتہ افراد کی ایک ایسوسی ایشن کو بھی ترتیب دیا گیا ہے جس میں دنیا بھر کے آڈٹ، اکاؤنٹس اور قانون کے ماہرین کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ سیکھنے والے طالب علم کو روزگار مہیا کرنے اور ایکسپرٹس کی زیر نگرانی کام کرنے کے لیے بھی پلیٹ فارمز مہیا کیے جائیں اور ٹیکس کی ہر آنے والی اپڈیٹ مہیا کی جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ association of certified Tax Practioners of Pakistan کے نام سے اس پلیٹ فارم کا مقصد ہے کہ ہمارے تربیت یافتہ پریکٹیشنرز کو ایک فارم پر رکھتے ہوئے انکو مسلسل سپورٹ اور نگرانی مہیا کی جا سکے اور ملک میں ٹیکس اور کاروباری معاملات کو ہمارے طالب علموں کے لئے آسان بنایا جائے اور انہیں پروفیشنل ٹیکس ایڈوائزر بنایا جا سکے تاکہ وہ دوسروں کی بھی مدد کریں اور خود بھی باعزت روزگار حاصل کر سکیں۔
نہیں ہے نہ اُمید اقبال اپنی کشت ویراں سے۔۔
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی۔۔