پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ ہمارا راستہ روکا گیا تو ہم نیا راستہ بنا لیں گے۔
پی ڈی ایم اجلاس کے بعد چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری، پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز سمیت دیگر پارٹیوں کے رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آج ایک غیررسمی ملاقات تھی، پی ڈی ایم کے فیصلے گزشتہ روز ہوچکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت جلسہ گاہ کو ڈیم بنا رہی ہے۔ جلسہ بھی نہیں روکتے اور اجازت بھی نہیں دے رہے۔ لیکن یہ تاریخٰ جلسہ ہو گا، حکومت عوامی سیلاب کو روک نہیں پائے گی۔
مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ آمریت کے مہرے نے جمہوریت کو دفن کردیا ہے، آج ملک میں جمہوریت نہیں۔ موجودہ حکومت کو آئینی اور جمہوری نہیں مانتے۔
انہوں نے کہا کہ ہم عوام کی نمائندہ حکومت کی بات کرتے ہیں۔ موجودہ حکومت کو آئینی اور جمہوری حکومت نہیں سمجھتے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آج پی ڈی ایم اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں جلسے اور ریلیوں کا شیڈول طے کریں گے۔ تمام مراحل میں استعفوں کا تذکرہ ہوتا رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ الیکٹورل کالج ٹوٹنے کے بعد سینیٹ انتخابات کے مستقبل کے لیے آئینی ماہرین سے مشاورت کریں گے۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہر آمرانہ دور میں مقابلہ کیا ہے۔ پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتیں ایک پیج اور ایک اسٹیج پر ہیں۔ ہم سارے پارلیمانی اور جمہوری آپشن استعمال کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی سیاست سڑکوں پر ہی شروع ہوئی تھی۔ ہم سب عمران خان کو گھر بھیجنے کیلئے نکلے ہیں۔
اعتزاز احسن کے بیانات کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کا فیصلہ ہی ان کا فیصلہ ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ پی پی پی اس موضوع پر سی ای سی کا اجلاس بلا رہے ہیں جہاں اعتزاز احسن سمیت دیگر رہنما شریک ہوں گے اور جو بھی پی پی پی کا فیصلہ ہوگا وہ اعتزاز احسن کا بھی اتنا فیصلہ ہوگا جتنا میرا فیصلہ ہے۔
پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ جلسے کا مقام تبدیل نہیں کریں گے۔ جلسہ مینار پاکستان پر ہی ہوگا۔