سپریم کورٹ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں ڈاکٹر ڈنشا اور جمیل بلوچ کی ضمانت کی درخواستوں پر چیئرمین نیب سے ملزمان کی عدم گرفتاری پر جواب طلب کر لیا۔
سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کی سربراہی جسٹس عمر عطا بندیال نے کی۔
اس موقع پر عدالت نے کہا کہ نیب وضاحت کرے کہ ملزمان کی گرفتاری میں تفریق کیوں کی جاتی ہے۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ایک ہی ریفرنس میں کچھ ملزمان کو پکڑنے اور کچھ کو نہ پکڑنے کی کیا منطق ہے۔
اس پر عدالت کو بتایا گیا کہ چیئرمین نیب کیس اتھارٹی سے ملزمان کی گرفتاری سے متعلق فیصلہ کرتے ہیں۔
ڈاکٹرڈنشا کے وکیل رشید اے رضوی نے کہا کہ میرا مؤکل 20 ماہ سے جیل میں ہے، باقی ملزمان آزاد ہیں، صرف میرے موکل کو پکڑا گیا۔
نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ جو مرکزی ملزمان ہیں ان کو پکڑا گیا ہے۔
رشید اے رضوی نے کہا کہ میرا مؤکل اقلیتی برادری سے تعلق رکھتا ہے، انہوں نے قانونی طریقے سے پلاٹ خریدا، اس وقت احتساب کا زمانہ تھا، اس پر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ آج بھی احتساب کا موسم ہے۔
رشید رضوی کا کہنا تھا کہ اگر کیس میں ایسا چلتا رہا تو تین سال مزید لگ جائیں گے۔
جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ کچھ جگہوں پر نیب کے پر جلتے ہیں، نیب آنکھیں اور کان بند کر لے تو کچھ نہیں نظر آتا، انہوں نے کہا کہ سب کو معلوم ہے عمارت کس کی ہے۔
جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ ڈاکٹر ڈنشا 20 ماہ سے جیل میں ہے، ابھی تک چارج بھی فریم نہیں ہوا۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم نیب تحقیقات کی شفافیت پر بات کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نیب کی جانب سے کچھ ملزمان کوگرفتار نہ کرنے پر ہمیں تشویش ہے۔
اس موقع پر نیب کے پراسکیوٹر جنرل اصغر حیدر نے کہا کہ ملزم کی عدم گرفتاری میں سب سے بڑی رکاوٹ پلی بارگین ہے۔
انہوں نے کہا کہ پلی بارگین کی درخواستوں کی وجہ سے نیب کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بحریہ ٹاؤن کی 6 پلی بارگین کی درخواستیں منظور ہوچکی جبکہ سات زیر التوا ہیں۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ دوسرے مقدمات کی بات کر رہے ہیں جبکہ ہم اس کیس کا پوچھ رہے ہیں۔
نیب پراسکیوٹر نے کہا کہ اس کیس کو تفصیل سے نہیں پڑھا مہلت دی جائے۔
عدالت نے نیب کی جانب سے گرفتاری کے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ بتائیں کہ ملزمان کی گرفتاری کا طریقہ کار کیا ہے۔
نیب پراسکیوٹر نے کہا کہ نیب میرٹ پر گرفتاری کرتا ہے، اب نیب کا طریقہ کار بدل چکا ہے، پہلے ملزم کو کال اپ نوٹس جاری کیا جاتا ہے، ملزم سے جواب طلب کیا جاتا ہے جس کے بعد کاروائی ہوتی ہے۔
اس پر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ 25 میں سے صرف 4 ملزمان گرفتار ہیں باقیوں کا کیا بنا؟ نیب پراسکیوٹر نے کہا کہ جن کو گرفتار نہیں کیا گیا، انہوں نے شاید پلی بارگین کی درخواست دی ہوئی ہو، تفصیلی رپورٹ میں تمام تفصیلات پیش کر دیں گے۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے نیب سے ملزمان کی گرفتاری کے طریقہ کار سے متعلق پیر کو تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے گرفتاری کا طریقہ کار بتانے کا حکم دے دیا۔