برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے بھارتی کسانوں کے احتجاج کی وجہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کو سمجھ لیا جس پر لوگوں کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائیٹس پر انہیں سخت تنقید اور طنز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
برطانوی پارلیمان میں سوال جواب کے سلسلے کے دوران پارلیمانی رکن تن من جیت سنگھ کی جانب سے کہا گیا کہ بھارتی حکومت کی طرف سے مظاہرین کے خلاف واٹر کینن، آنسو گیس اور سخت طاقت کا استعمال کیا جارہا ہے۔ انہوں نے ان مظاہروں پر برطانوی حکومت کا موقف جاننے کی کوشش کی اور سوال کیا کہ کیا وزیراعظم اس بات سے متفق ہیں کہ پرامن مظاہرہ کرنا ہر شخص کا بنیادی حق ہے؟
برطانوی وزیراعظم نے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہیں پاکستان اور بھارت کے درمیان موجودہ صورتحال پر سخت تشویش ہے تاہم یہ ان دو ممالک کے آپس میں حل کرنے والے معاملات ہیں۔
بورس جانسن کی جانب سے کیے گئے اس تبصرے کے تھوڑی ہی دیر بعد سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر صارفین نے اس بیان پر کڑی تنقید کی۔
برطانوی پارلیمان کے رکن افضل خان نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کا پاکستان اور بھارت سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تن من جیت سنگھ کی جانب سے کیے گئے سوال کا وزیراعظم نے ایک غیر متعلقہ جواب دیا ہے۔
ایک اور برطانوی رکن پارلیمان زارہ سلطانہ نے بھی ٹوئیٹر پر برطانوی وزیراعظم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے طنزیہ کہا کہ وزیر اعظم کو کشمیر اور پنجاب کے درمیان فرق معلوم نہیں ہے۔
یاد رہے کہ بھارت میں مودی سرکار کی طرف سے نافذ کیے گئے نئے زرعی قوانین کے خلاف بھارتی کسانوں کی جانب سے نئی دلی میں کئی ہفتوں سے مظاہرے کئے جارہے ہیں۔ کسانوں کے مطابق ان قوانین سے ان کے بسر اوقات کو نقصان پہنچے گا جبکہ بڑی کمپنیز اس سے مستفید ہوں گی۔ ان کسانوں کا تعلق زیادہ تر بھارت کی پنجاب اور ہریانہ ریاستوں سے ہے۔