دنیا کے امیر ترین ممالک کی طرف سے کورونا ویکسین کا 53 فیصد خرید کر اسٹاک کر لینے کا انکشاف ہوا ہے۔
اس حوالے سے ایک عالمی تنظیم کا کہنا ہے کہ دنیا کے 68 ممالک میں ہر 10 میں سے ایک شخص کو ویکسین ملے گی۔
عالمی تنظیم کے حکام کا کہنا ہے کہ 14 فیصد آبادی کیلئے 53 فیصد ویکسین خریدی جا چکی ہے۔
واضح رہے برطانیہ کے بعد کینیڈا اور سعودی عرب نے فائزر ویکسین کی منظوری دے دی ہے، ان ممالک میں شہریوں کیلئے ویکسینیشن کا عمل جلد شروع ہونے کا امکان ہے۔
اسی طرح ایمنسٹی انٹرنیشنل، آکسفیم اور گلوبل جسٹس ناؤ کے اشتراک سے پیپلز ویکسین الائنس تشکیل دیا گیا ہے جو ویکسین کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائے گا۔
ویکسین کی 70 کروڑ خوراکیں 92 ترقی پذیر ممالک میں ‘کوویسک’ نامی معاہدے کے تحت بانٹی جائیں گی۔
پیپلزویکسین الائنس نے دوا ساز کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی ٹیکنالوجی شیئر کریں تاکہ مزید خوراکیں دستیاب ہو سکیں۔
امیر ممالک نے کورونا ویکیسنز اتنی مقدار میں خرید لی ہیں کہ وہ اسے اپنی آبادی کو تین مرتبہ لگا سکتے ہیں۔
پیپلز ویکسین الائنس کا دعویٰ ہے کہ کینیڈا نے اتنی ویکسین آرڈر کر دی ہے کہ ہر کینیڈی شہری اسے پانچ مرتبہ استعمال کر سکتا ہے۔
اس ضمن میں آکسفیم حکام کا کہنا ہے کہ اگر کوئی ڈرامائی تبدیلی نہیں آتی تو دنیا بھر میں اربوں افراد کووڈ 19 ویکسین سے سالوں تک محروم رہیں گے۔
کورونا ویکسین کی منصفانہ تقسیم کیلئے مہم چلانے والوں کا کہنا ہے کہ ایک ہی کمپنی کے ذریعے پوری دنیا کیلئے ویکسین تیار نہیں کی جا سکتی ہے۔