• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
جمعرات, اپریل 23, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

باسمتی چاول کے ملکیتی حقوق، پاکستان نے یورپی یونین سے رجوع کر لیا

by sohail
دسمبر 11, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

پاکستان نے باسمتی چاول پر بھارتی دعویٰ مسترد کرتے ہوئے یورپی یونین میں درخواست دے دی۔

مشیرتجارت عبدالرزاق داؤد نے اس سلسلے میں ہونے والی پیش رفت کی ایک ٹوئٹ میں تصدیق کی ہے، انہوں نے کہا کہ بھارت کی بھول ہے کہ پاکستان اسے باسمتی چاول کے ملکیتی حقوق لینے دے گا۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت پوری تندہی اور عزم کے ساتھ اس کیس کا دفاع کرے گی۔

ٹوئٹر پیغام میں انہوں نے لکھا کہ پاکستان نے بھارت کی جانب سے یورپی یونین میں چاول کی برآمدات کیلئے باسمتی چاول کے خصوصی حقوق کی درخواست کی مخالفت میں درخواست دائر کر دی ہے۔

مشیر تجارت کا کہنا تھا کہ جہاں بھارت باسمتی چاول کا 65 فیصد تجارت کرتا ہے، وہیں بقیہ 35 فیصد باسمتی چاول پاکستان پیدا کرتا ہے، جو ملک کی سالانہ 80 کروڈ سے ایک ارب ڈالر برآمدات کے برابر ہے۔

واضح رہے بھارت نے 11 ستمبر کو یورپی یونین کے باضابطہ جنرل کے مطابق یورپی پارلیمنٹ کے ریگولیشن کے آرٹیکل 50 اور کونسل آن کوالٹی اسکیم فار ایگریکلچر پروڈکٹس کے تحت باسمتی چاولوں کے لئے جی آئی ٹیگ کی درخواست دی تھی۔

درخواست میں بھارت نے مؤقف اختیار کیا کہ باسمتی چاول اس کی جغرافیائی نشانی ہے اور یہ بھارت کی پیداوار ہے۔

جبکہ یورپی ریگولیشن 2006 کے مطابق باسمتی چاول اس وقت تک پاکستان اور بھارت دونوں ممالک کی پیداوار کے طور پر رجسٹرڈ ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ باسمتی چاول پاکستان میں بڑے پیمانے پر کاشت ہوتا ہے اور اپنی بہترین خوشبو اور ذائقے کی بدولت اسے بھارت کے باسمتی چاول پر فوقیت حاصل ہے۔

جس پر پاکستانی حکومت نے 22 سمبر کو یورپی یونین میں باسمتی چاول کیلئے جی آئی ٹیگ کے خصوصی حقوق حاصل کرنے کی درخواست کی مخالفت کا فیصلہ کیا۔

واضح رہے جغرافیائی اشارے کا تحفظ کسی ملک کو اس کی برآمدات بڑھانے، دیہی ترقی میں معاونت اور ہنر مندوں، زرعی مصنوعات پیدا کرنے والوں کے روزگار کو فروغ میں مدد دیتا ہے۔

جی آئی مصنوعات کی مارکیٹنگ ضمنی معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ دیتی ہیں تاکہ علاقائی معاشی ترقی میں اضافہ ہو۔

جی آئی قانون پاکستان کی مقامی مصنوعات مثلاً پشاوری چپل، ملتانی نیلے نقشین کاری والے ظروف، ہنزہ کی خوبانی، ہالہ کی اجرک، قصوری میتھی، چمن کے انگور اورتربت کی کھجوروں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔

Tags: باسمتی چاول
sohail

sohail

Next Post

لاہور جلسے سے نمٹنے کیلئے حکومتی حکمت عملی سامنے آ گئی

بھورے ریچھوں کی اردن منتقلی میں تاخیر پر عدالت برہم

حکومت سے کوئی بات چیت نہیں ہو گی، مریم، بلاول کا اعلان

سعودی عرب کورونا ویکسین کے استعمال کی اجازت دینے والا پہلا ملک بن گیا

معروف بھارتی کوریوگرافر ریمو ڈی سوزا کو دل کا دورہ، اسپتال منتقل

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In