پاکستان نے باسمتی چاول پر بھارتی دعویٰ مسترد کرتے ہوئے یورپی یونین میں درخواست دے دی۔
مشیرتجارت عبدالرزاق داؤد نے اس سلسلے میں ہونے والی پیش رفت کی ایک ٹوئٹ میں تصدیق کی ہے، انہوں نے کہا کہ بھارت کی بھول ہے کہ پاکستان اسے باسمتی چاول کے ملکیتی حقوق لینے دے گا۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت پوری تندہی اور عزم کے ساتھ اس کیس کا دفاع کرے گی۔
ٹوئٹر پیغام میں انہوں نے لکھا کہ پاکستان نے بھارت کی جانب سے یورپی یونین میں چاول کی برآمدات کیلئے باسمتی چاول کے خصوصی حقوق کی درخواست کی مخالفت میں درخواست دائر کر دی ہے۔
مشیر تجارت کا کہنا تھا کہ جہاں بھارت باسمتی چاول کا 65 فیصد تجارت کرتا ہے، وہیں بقیہ 35 فیصد باسمتی چاول پاکستان پیدا کرتا ہے، جو ملک کی سالانہ 80 کروڈ سے ایک ارب ڈالر برآمدات کے برابر ہے۔
واضح رہے بھارت نے 11 ستمبر کو یورپی یونین کے باضابطہ جنرل کے مطابق یورپی پارلیمنٹ کے ریگولیشن کے آرٹیکل 50 اور کونسل آن کوالٹی اسکیم فار ایگریکلچر پروڈکٹس کے تحت باسمتی چاولوں کے لئے جی آئی ٹیگ کی درخواست دی تھی۔
درخواست میں بھارت نے مؤقف اختیار کیا کہ باسمتی چاول اس کی جغرافیائی نشانی ہے اور یہ بھارت کی پیداوار ہے۔
جبکہ یورپی ریگولیشن 2006 کے مطابق باسمتی چاول اس وقت تک پاکستان اور بھارت دونوں ممالک کی پیداوار کے طور پر رجسٹرڈ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ باسمتی چاول پاکستان میں بڑے پیمانے پر کاشت ہوتا ہے اور اپنی بہترین خوشبو اور ذائقے کی بدولت اسے بھارت کے باسمتی چاول پر فوقیت حاصل ہے۔
جس پر پاکستانی حکومت نے 22 سمبر کو یورپی یونین میں باسمتی چاول کیلئے جی آئی ٹیگ کے خصوصی حقوق حاصل کرنے کی درخواست کی مخالفت کا فیصلہ کیا۔
واضح رہے جغرافیائی اشارے کا تحفظ کسی ملک کو اس کی برآمدات بڑھانے، دیہی ترقی میں معاونت اور ہنر مندوں، زرعی مصنوعات پیدا کرنے والوں کے روزگار کو فروغ میں مدد دیتا ہے۔
جی آئی مصنوعات کی مارکیٹنگ ضمنی معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ دیتی ہیں تاکہ علاقائی معاشی ترقی میں اضافہ ہو۔
جی آئی قانون پاکستان کی مقامی مصنوعات مثلاً پشاوری چپل، ملتانی نیلے نقشین کاری والے ظروف، ہنزہ کی خوبانی، ہالہ کی اجرک، قصوری میتھی، چمن کے انگور اورتربت کی کھجوروں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔