• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
بدھ, اپریل 22, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

بھورے ریچھوں کی اردن منتقلی میں تاخیر پر عدالت برہم

by sohail
دسمبر 11, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریچھوں کو اردن منتقل کرنے کے احکامات پر وزارت موسمیاتی تبدیلی کی جانب سے عمل نہ کرنے پر توہین عدالت کیس کی سماعت کی، جس کی سربراہی چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی نے کی۔

عدالتی نوٹس پر سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی اور چیئرمین وائلڈ لائف بورڈ عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ عدالت نے وزارت موسمیاتی تبدیلی پر اعتماد کر کے دو ریچھوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔

سماعت کے موقع پرعدالت نے کہا کہ کل عدالت میں سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی اور چئیرپرسن وائلد لائف کا طرز عمل مناسب نہیں تھا۔

عدالت نے کہا کہ وزیراعظم نے ہمارے فیصلے کو چیلنج کرنے کے بجائے اسے قبول کیا، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ عدالت اس معاملے پر وزیراعظم کی تعریف کرتی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے بار بار کہا کہ جانوروں کو متعلقہ پناہ گاہوں میں منتقل کریں، جس طرح دو شیروں کی جان گئی وہ انتہائی شرمناک ہے، ان دو شیروں کو دوسرے چڑیا گھروں میں منتقل کرنا عدالتی احکامات کی خلاف ورزی تھی۔

انہوں نے کہا کہ میئر، وزارت موسمیاتی تبدیلی اور وائلڈ لائف کے جھگڑے کے باعث یہ سب ہوا۔

عدالت نے کہا کہ کل چئیرپرسن وائلڈ لائف نے کہا کہ عدالتی آرڈر میں اگر صرف اردن کا ذکر ہو تب معافی مانگیں گی، ہم نے اسی لیے کہا تھا وہ عدالتی احکامات کو ٹھیک سے پڑھ کر آئیں۔

چیف جسٹس نے کہ کاون پورے ملک کے  لیے فخر کا باعث بنا تو کریڈٹ وزیراعظم کو جاتا ہے۔

اس موقع پر وکیل وائلڈ لائف بورڈ نے کہا کہ کاون کا کریڈٹ اس عدالت کو جاتا ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے کوئی کریڈٹ نہیں لینا۔

عدالت نے کہا کہ اگر توہین عدالت کی کارروائی ہی چاہتے ہیں تو ہم شروع کر دیتے ہیں۔

اس پر وکلا نے کہا کہ سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی اور چئیرپرسن وائلڈ لائف کی نیت توہین عدالت کی نہیں تھی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے وزارت موسمیاتی تبدیلی کو ذمہ داری دی لیکن انہوں نے دلچسپی نہیں لی، وزارت موسمیاتی تبدیلی نے اُلٹا اس عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ ایک نوٹیفکیشن یہاں پیش کر کے کہا گیا وائلڈ لائف بورڈ کی تشکیل نو ہو چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے کی تسلسل کے ساتھ خلاف ورزی کی گئی، اگر بورڈ میں سے کوئی عدالتی فیصلے کے خلاف جانا چاہتا ہے تو عدالت کارروائی کرے گی۔

موسمیاتی تبدیلی سیکرٹری کے وکیل نے کہا کہ پاکستان میں کوئی سینکچوری موجود نہیں اس  لیے ریچھوں کو اردن منتقل کرنے کی لیے پرمٹ جاری کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اسی دوران ایوب نیشنل پارک نے دونوں ریچھوں کو اپنے پاس رکھنے پر رضامندی ظاہر کی۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ دونوں ریچھوں کو ایک چڑیا گھر سے نکال کر دوسرے چڑیا گھر میں رکھنا بھی عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ ریچھوں کو کہیں بھی منتقل کیا جائے، عدالت کو غرض نہیں، لیکن عدالت کو مطمئن کرنا ہوگا۔

وکیل نے مزید کہا کہ ایم سی آئی، وائلڈ لائف اور وزارت میں گزشتہ چار سال سے لڑائی چل رہی تھی، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے اسی لڑائی کو دیکھ کر چڑیا گھر کی ذمہ داری وزارت موسمیاتی تبدیلی کو دی تھی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی کے چارج کے دوران دونوں شیروں کی ہلاکت ہوئی، وزارت موسمیاتی تبدیلی نے عدالت سے غلط بیانی کی ہے۔

اس موقع پر وکیل نے کہا کہ عدالتی سرپرستی سے مائنڈ سیٹ تبدیل ہوچکا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت نے سب کچھ وزارت موسمیاتی تبدیلی اور وائلڈ لائف بورڈ پر چھوڑا تھا، تاہم بورڈ نے فیصلہ لیا اورعدالت کو بتایا، اس کے بعد کیا ہوا، کسی کو معلوم نہیں۔

چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ نے پرمٹ منسوخ کرنے کا فیصلہ کر لیا اور عدالت کو بتایا ہی نہیں۔

عدالت نے کہا ہمیں معلوم ہے کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی اور وائلڈ لائف بورڈ کے پاس اختیارات کے دوران بھی ریچھ تکلیف دہ حالت میں رہے۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ عدالت کو وزارت موسمیاتی تبدیلی اور چیئرپرسن وائلڈ لائف بورڈ پر مکمل اعتماد ہے، عدالت نے انہیں دونوں ریچھوں کو سینکچوری میں منتقل کرنے کا فیصلہ دے رکھا ہے۔

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہمارے خیال میں اردن کا موسم اور وہاں کا مقام دونوں بھورے ریچھوں کی لیے بہتر ہے، جب تک دونوں ریچھوں کی لیے کوئی دوسرا محفوظ متبادل تلاش نہیں کر لیا جاتا تب تک انہیں اردن ہی بھیجا جائے، انتظام ہونے پر حکومت انہیں واپس لے آئے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ریچھوں کی منتقلی کا جوفیصلہ لیا گیا ہے وہ عدالتی فیصلے سے مطابقت نہیں رکھتا، اس سے عدالت کے فیصلے کی خلاف ورزی ہوئی ہے جس پر عدالت توہین عدالت کا کارروائی کرے گی۔

عدالت نے ڈاکٹر عامر خلیل کو روسٹرم پر طلب کیا تو انہوں نے کہا کہ میں وکیل کی بات سے اختلاف کرتا ہوں۔

ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ ہم نے میں نے ایوب پارک کا دورہ کیا، وہ ریچھوں کی لیے سازگار نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے مری کا دورہ بھی کیا، وہاں بھی کوئی جگہ دونوں ریچھوں کی لیے مناسب نہیں لگی۔

ڈاکٹر عامر خلیل نے کہا کہ اردن کی سینکچوری سطح سمندر سے گیارہ سو سنٹی میٹر اونچائی پر ہے، اس  لیے ہم نے وزارت کو دونوں ریچھوں کو اردن منتقل کرنے کا مشورہ دیا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری کسی سے کوئی لڑائی نہیں ہے، ہم تو جانوروں کی منتقل کرنا چاہتے ہیں، ہمارے اس سارے معاملے میں کوئی سیاسی مفاد نہیں ہے، جب سینکچوری بن جائے تو واپس لے آئیں۔

اس پر چیئرپرسن وائلڈ لائف بورڈ نے کہا کہ ریچھ فٹ بال تو نہیں کہ ہم ابھی بھیجیں اور چھ ماہ بعد واپس لے آئیں، یہ صرف تین چار ماہ کا معاملہ ہے اس دوران سینکچوری بنا لیں گے۔

 چیئرپرسن نے کہا کہ آپ چڑیا گھر آئیں، اور ان کو دیکھیں، وہ اب بہتر حالت میں ہیں۔

عدالت نے کہا کہ جو بات آپ نے کہی ہے، وہ عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی ہے، عالمی ماہرین کی رائے لے کر آئیں اور اس عدالت کو مطمئن کریں۔

عدالت نے کہا کہ ہمیں کوئی غرض نہیں کہ ریچھوں کو جہاں چاہیں منتقل کریں، لیکن وہ عدالتی فیصلے کے مطابق ہو، چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت ایک اور موقع دیتی ہے کہ عدالتی فیصلے کے مطابق ریچھوں کی منتقلی کا فیصلہ کریں۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کاون کمبوڈیا کیوں منتقل کیا گیا تھا، اس پر وکیل نے کہا کہ کاون کی لیے قدرتی ماحول پاکستان میں موجود نہیں تھا۔

عدالت نے کہا کہ اگر کاون کی لیے قدرتی ماحول نہیں تھا تو ریچھوں کی لیے کیسے ہے۔

بعد ازاں عدالت نے آخری موقع دیتے ہوئے سماعت 14 دسمبر تک ملتوی کر دی

Tags: اسلام آباد ہائیکورٹریچھوں کی منتقلیکاون ہاتھی
sohail

sohail

Next Post

حکومت سے کوئی بات چیت نہیں ہو گی، مریم، بلاول کا اعلان

سعودی عرب کورونا ویکسین کے استعمال کی اجازت دینے والا پہلا ملک بن گیا

معروف بھارتی کوریوگرافر ریمو ڈی سوزا کو دل کا دورہ، اسپتال منتقل

نادیہ خان تیسری بار شادی کے بندھن میں بندھنے کے لیے تیاریوں میں مصروف

بلاول بھٹو کے ترجمان سینیٹر مصطفیٰ کھوکھر نے استعفیٰ دے دیا

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In