برطانیہ اور کینیڈا کے بعد سعودی عرب نے فائزر اور بائیو این ٹیک ویکسین کے استعمال کی اجازت دے دی ہے اور وہ اس حوالے سے پہلا اسلام ملک بن گیا ہے۔
برطانوی حکومت نے 2 دسمبر کو ویکسین کے استعمال کی منظوری دی تھی اور 8 دسمبر کو شہریوں پر اس کا استعمال شروع کیا گیا۔
کینیڈا کی حکومت نے بھی کورونا ویکسین کے استعمال کی اجازت دے دی ہے تاہم ابھی تک اسے استعمال نہیں کیا گیا۔
سعودی عرب کے اخبار سعودی گزٹ کے مطابق سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ ریگولیٹر اتھارٹی (ایس ایف ڈی اے) نے بھی فائزر و بائیو این ٹیک کی ویکسین کے استعمال کی منظوری دے دی۔
اخبار کے مطابق ایس ایف ڈی اے نے ویکسین تیار کرنے والی کمپنی کے ڈیٹا کا جائزہ لے کر یہ منظوری دی ہے، سعودی عرب بھی فائزر اور بائیو این ٹیک ویکسین استعمال کرے گا۔
سعودی عرب میں ویکسین کی رجسٹریشن ہو گی جس کے بعد ویکسین کی خریداری کی جائے گی اور آخری مرحلے میں اس کے استعمال کی نوبت آئے گی۔
اخبار کے مطابق سعودی حکومت نے ابھی تک ویکسین کا استعمال شروع کرنے کی کوئی حتمی تاریخ نہیں بتائی تاہم رواں ماہ کے اختتام یا آئندہ ماہ کے آغاز تک ویکسین کا استعمال شروع ہو سکتا ہے۔
ابھی یہ بھی واضح نہیں ہے کہ سعودی حکومت نے ویکسین تیار کرنے والی کمپنیوں کو کتنے ڈوز فراہم کرنے کا آرڈر دیا ہے، تاہم اس حوالے سے جلد حکومت وضاحت کرے گی۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ سعودی عرب کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جلد ہی کویت، بحرین، مصر و قطر جیسے ممالک بھی ویکسین کے استعمال کی منظوری دیں گے۔
مشرق وسطی ممالک کے بعد خیال کیا جا رہا ہے کہ افریقی و وسطی ایشیا کے مسلمان ممالک بھی فائزر و بائیو این ٹیک کی ویکسین کو استعمال کرنے کی اجازت دیں گے۔