روس سے دفاعی نظام ایس-400 کی خریداری پر امریکی ایوان نمائندگان نے ترکی پر معاشی پابندیوں کی منظوری دے دی۔
ترکی پر پابندیوں کی شق محکمہ دفاع کے بجٹ بل میں شامل کی گئی ہے جسے گزشتہ روز کانگریس نے منظور کیا تھا۔
740 ارب ڈالر کے دفاعی بجٹ ایکٹ کی منظوری سینیٹ سے پہلے ہی دی جا چکی ہے، اس بل میں ترکی اور روس دونوں پر معاشی پابندیوں کی شق شامل ہے۔
العربیہ اخبار کے مطابق سینیٹ نے جمعہ کے روز اس بل کی منظوری دی تھی جس پر صدر ٹرمپ نے اسے ویٹو کرنے کی دھمکی دی تھی۔
امریکہ گزشتہ برس سے ترکی پر معاشی پابندیاں عائد کرنے کا ارادہ ظاہر کر چکا تھا تاہم صدر ٹرمپ نے ترکی کی ناراضی سے بچنے کے لیے ان سے گریز کیا تھا۔
ڈیموکریٹ سینیٹرز ٹرمپ پر الزام عائد کرتے ہیں کہ انہوں نے کئی برسوں سے ترک صدر طیب اردوان کو تحفظ فراہم کیے رکھا لیکن صدر جوبائیڈن ترک صدر کے اقدامات پر نظر رکھیں گے۔
ڈیموکریٹک سینیٹر وین ہولن کا کہنا تھا کہ اب ترک صدر طیب اردوان کے لیے فیصلے کا وقت ہے کہ آیا وہ نیٹو کے ساتھ وفاداری کرتے ہیں یا خطے میں علیحدہ ہونا چاہتے ہیں۔
دوسری جانب ایک سینیر ترک عہدیدار نے کہا کہ ‘روسی ایس -400’ میزائل دفاعی نظام کی خریداری پر ترکی پر امریکی پابندیوں سے دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو نقصان پہنچے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور ترکی نیٹو کے رکن ہیں اور ایک رکن ملک دوسرے پر کیسے پابندیاں عاید کر سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پابندیوں کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔ ترکی پر پابندیاں تعمیری سوچ نہیں۔ ان سے دونوں ملکوں کے تعلقات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔