پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ ( پی ڈی ایم) کے لاہور جلسے کیلئے حکومت نے اپنی حکمت عملی کا پلان اے، بی اور سی ترتیب دے دیا۔
حکومت کے پلان اے کے مطابق پنجاب کے دیگر اضلاع سے آنے والے کارکنوں کو وہیں روکا جائے گا، اس حوالے سے مقامی انتظامیہ نے فہرستیں تیار کرکے حکام کو ارسال کر دی ہیں۔
پلان بی کے مطابق لاہور کے داخلی، خارجی راستوں پر کنٹینرز لگائے جائیں گے، 13 دسمبر کے جلسے کیلئے دیگر اضلاع سے پولیس کی اضافی نفری بھی طلب کی جائے گی۔
اسی طرح سیف سٹی اتھارٹی کے کیمروں سے جلسے کے شرکاء کی مانیٹرنگ کی جائے گی۔
پلان سی کے مطابق جلسے میں رہنماؤں، کارکنوں کے خلاف کورونا وائرس کے ضوابط کی خلاف ورزی کے مقدمات درج کئے جائیں گے۔
واضح رہے اپوزیشن کی جماعتوں نے پی ڈی ایم کے مشترکہ پلیٹ فارم سے 13 دسمبر کو مینار پاکستان میں جلسے کا اعلان کر رکھا ہے، حکومت کی طرف سے کورونا میں شدت کے باعث جلسے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔
خیال رہے گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں سے جلسے ملتوی کرنے کی اپیل کی تھی۔
وزیراعظم نے کہا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں دو تین ماہ بعد جلسے کر لیں، کیونکہ جلسوں سے کورونا پھیلنے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ جلسوں سے مجھے یا حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، تاہم لوگوں کی جانوں کو خطرہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر اسی طرح کورونا میں اضافہ ہوتا رہا تو مریضوں سے ہسپتال بھر جائیں گے، کیونکہ سردی میں کورونا کے پھیلنے کے خدشات زیادہ ہیں۔