برطانوی حکومت کی طرف سے سابق سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) راؤ انوار احمد خان پر پابندیاں عائد کر دی گئیں۔
گزشتہ جمعرات برطانوی حکومت کی جانب سے عالمی سطح پر11 افراد کے خلاف انسانی حقوق کی پامالی کی بنیادوں پر سفری اور معاشی پابندیوں کا دائرہ سخت کر دیا گیا۔ ان افراد کا تعلق روس، وینزویلا، گیمبیا اور پاکستان سے ہے۔
برطانوی وزیر خارجہ ڈومینیک راب کی جانب سے راؤ انوار پر الزام عائد کیا گیا کہ ان کے زیرنگرانی جارحانہ سرگرمیاں ہوتی رہیں جس کے باعث 400 افراد سے زائد ہلاک ہوئے جن میں نقیب اللہ محسود بھی شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ پاپندیاں انسانی حقوق کو پامال کرنے والوں کو واضح طور پر یہ پیغام بھیجیں گی کہ برطانیہ ان کا احتساب کرے گا۔
یاد رہے کہ پاکستان میں ‘انکاؤنٹر اسپیشلسٹ’ راؤ انوار پر 190 سے زائد پولیس مقابلوں کا الزام ہے جس میں مبینہ طور پر 400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ دسمبر 2019 میں امریکہ کی جانب سے بھی راؤ انوار پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔
جنوری 2018 میں جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ نقیب اللہ محسود سمیت 4 افراد کے قتل کے معاملے میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کا نام سامنے آیا تھا۔
ابتدائی طور پر راؤ انوار کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا کہ پولیس مقابلے میں 4 دہشت گرد مارے گئے ہیں جن کا تعلق لشکر جھنگوی اور داعش سے تھا۔ بعد ازاں عدالتی کارروائیوں میں سابق ایس ایس پی کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا تھا۔
جنوری 2019 میں 444 افراد کے مبینہ طور پر قتل میں ملوث ہونے کے الزامات کا سامنا کرنے والے راؤ انوار پولیس سروسز سے ریٹائر ہو گئے تھے۔
علاوہ ازیں برطانیہ کی جانب سے گیمبیا کے سابق صدر یحییٰ جامع پر بھی مظاہرین اور اقیلیتی گروپس کے افراد کی ہلاکتوں کے الزام پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ وینزویلا میں سیکیورٹی سے تعلق رکھنے والی سینئر شخصیات جبکہ روس میں تشدد کے الزام کی بنیاد پر تین افراد کے خلاف پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔