برطانوی حکومت نے آئندہ ہفتے نئے قوانین جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد سوشل میڈیا پر کاروبار کرنے والی کمپنیز کو نہ صرف غیر جانبدار ہونے پر مجبور کیا جائے گا بلکہ انہیں اپنی مرضی کے مطابق متنازعہ مواد ہٹانے سے روکا جائے گا۔
برطانوی میڈیا کے مطابق حکومتی وزرا کی جانب سے بروز منگل نئے منصوبوں کا اعلان کر دیا جائے گا جو کہ برطانوی نشریات کو کنٹرول کرنے والے ادارے آفس آف کمیونیکیشنز (اوف کوم) کی طرف سے عملی طور پر نافذ کیے جائیں گے۔
جو کمپنیز ان قوانین پر پورا اترنے سے قاصر رہیں گی ان پر یا تو لاکھوں پاؤنڈز کے جرمانے عائد کیے جا ئیں گے یا پھر انہیں برطانیہ میں اپنا کام جاری رکھنے سے روک دیا جائے گا۔
خبر میں ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ برطانوی حکومت کو سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر کاروبار کرنے والی کمپنیز کے متعلق یہ خدشات لاحق تھے کہ یہ کمپنیز کسی مواد کو فقط متنازعہ ہونے کی بنیاد پر ہٹا دیتی ہیں جبکہ مواد کو صرف اس صورت میں مٹانا چاہئے جب وہ خطرناک ہو یا پھر غلط معلومات پر مبنی ہو۔
اگلے سال تک برطانیہ کی جانب سے ایسے قوانین بھی نافذ کیے جائیں گے جو کہ گوگل اور فیسبک کو انٹرنیٹ پر اپنے غلبے کا استعمال کر کے چھوٹی کمپنیز کو مقابلے سے باہر کرنے سے روکیں گے۔
یہ منصوبے برطانوی ادارے کمپیٹیشن اینڈ مارکٹس اتھارٹی (سی ایم اے) کے ایک یونٹ کے ذریعے سے عمل میں لائے جائیں گے۔ رواں سال اس ادارے کی طرف سے کہا گیا تھا کہ بڑی انٹرنیٹ کمپنیز کو ایک حد تک رکھنے کے لیے نئے قوانین کی ضرورت ہے۔
سی ایم اے نے مزید بتایا کہ گزشتہ سال ڈیجیٹل اشتہارات پر خرچ ہونے والے 14 کھرب پاؤنڈز کا لگ بھگ 80 فیصد حصہ گوگل اور فیسبک کی ملکیت تھا۔ دونوں کمپنیز کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ برطانوی حکومت کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔