اسلام آباد میں وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ جس طرح محسن داوڑ کے بلوچستان میں داخلے پر پابندی لگائی گئی تھی اسی طرح محمود خان اچکزئی کو بھی پنجاب میں داخل ہونے سے روک دینا چاہئے، اگر ان سے کسی نے بدتمیزی کر دی تو مسئلہ ہوگا، بہتر ہے کہ اس پر قانونی اقدام ہو۔
معاون خصوصی شہباز گل کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی ایم) کو کہا کہ انہیں اپنی ٹکراؤ کی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیئے، حکومت اور عمران خان کہیں نہیں جا رہے اور نہ ہی اپوزیشن انہیں گھر بھیج سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود مذاکرات اور رابطوں کے دروازے کھلے رہنے چاہیئیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم نے پارلیمان کو مذاکرات کے لیے بہترین مقام قرار دیا ہے اور اس لحاظ سے اسپیکر مذاکرات کے لیے اہم ترین شخصیت بن جاتے ہیں۔
یاد رہے کہ اپوزیشن جماعت پی ڈی ایم کے رہنماوں کی جانب سے گزشتہ اتوار کو لاہور میں مینار پاکستان پر جلسہ کیا گیا تھا۔ ن لیگ کے سربراہ نواز شریف نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے عوام کے ساتھ خطاب کیا تھا۔ جلسے میں رہنماوں کی جانب سے حکومت وقت اور وزیراعظم عمران خان پر کڑی تنقید کی گئی تھی۔
اس جلسے میں پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے لاہور کے عوام کو نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ لاہوریوں نے انگریزوں کے ساتھ مل کر افغان سرزمین پر قبضے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ لاہوریوں نے ہندووں اور سکھوں کے ساتھ مل کر انگریز کا ساتھ دیا تھا۔
سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر فواد چودھری کی جانب سے اس بیان پر سخت تنقید کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ن لیگ اور پیپلز پارٹی خود کو وفاقی جماعتیں کہلواتی ہیں تو انہیں اچکزئی کو اتحاد سے باہر کر دینا چاہئے ورنہ وہ تاریخ میں پنجاب دشمن کرداروں کے ساتھ پہچانے جائیں گے۔