لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک )پنجاب کابینہ نے آئندہ مالی سال 2021-22 کے ضمنی بجٹ کی منظوری دیدی ،سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10فیصد اضافہ کردیا گیا جبکہ زرعی ٹیکس میں اضافے کی تجویز مسترد کردی گئی۔تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدار کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں کابینہ نے آئندہ مالی سال 2021-22 کے لئے بجٹ کی منظوری دی۔بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں دس فیصد اضافہ کی منظوری دی گئی جبکہ مزدور کی کم ازکم اجرت 17500 سے بڑھا کر20ہزارکردی گئی۔
آئندہ مالی سال کے بجٹ کا مجموعی حجم 2ہزار 653ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔ موجودہ بجٹ کا حجم گزشتہ کی نسبت 18 فیصد زیادہ ہے۔وفاقی محصولات میں صوبے کا حصہ5ہزار829ارب روپے متوقع ہے۔ محصولات سے این ایف سی ایوارڈ کے تحت پنجاب کو1ہزار 684ارب روپے منتقل کیے جائیں گے۔صوبائی محصولات کے لیے 405 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا۔ بجٹ میں جاری اخراجات کا تخمینہ1ہزار 428ارب روپے لگایا گیا ہے۔پنجاب کے ترقیاتی پروگرام کے لئے 560 ارب کے ریکارڈ فنڈز مختص کیے جانے کا امکان ہے۔
ترقیاتی بجٹ میں تعلیم اور صحت کے لیے 205ارب 50 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز ہے۔انفراسٹر کچر ڈویلپمنٹ کیلئے 145ارب40کروڑ، اسپیشل پروگرامز کیلئے91ارب 41کروڑ، صنعت، ذراعت، لائیو اسٹاک، ٹوورازم، جنگلات وغیرہ کیلئے 57 ارب 90 کروڑ روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے۔پنجاب کی 100 فیصد آبادی یعنی 11کرو ڑ عوام کو ہیلتھ انشورنس مہیا کی جائے گی جس کیئے60 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔رواں سال 5 نئے مدر اینڈ چائلڈ ہسپتالوں کے قیام کیلئے 12 ارب روپے سے زائد کا بجٹ مختص کرنے کی تجویز ہے۔ مجموعی طور پر صحت کا بجٹ369ارب، تعلیم کا مجموعی بجٹ442ارب روپے رکھا گیا جو پچھلے سال سے13فیصد سےزائد ہے۔اجلاس کے دوران عثمان بزدار نے کہاکہ ہم کسان پر بوجھ نہیں ڈال سکتے بلکہ کاشتکاروں کو مزید خوشحال بنائیں اور ریلیف دینگے ۔