اسلام آباد(عمران مگھرانہ)پی اے سی نے گاڑیوں پر لاکھوں روپے کی اون منی کا نوٹس لے لیا۔پی اے سی ارکان نے کہا کہ گاڑیوں پر ڈیڑھ سے آٹھ لاکھ روپے اون منی چل رہی ہے۔نور عالم خان نے مطالبہ کیا کہ منسٹری آف انڈسٹریز کو بلوائیں۔جس پر چیئرمین پی اے سی نے سوال کیا کہ کیا گاڑیاں مہنگی ہو گئی ہیں؟نور عالم خان نے کہا کہ گاڑیوں پر 6سے8لاکھ روپے تک اون چل رہا ہے۔وقت پر ڈلیوری نہیں دے رہے ہیں۔یہ وزیر صاحب سے بھی نہیں ڈرتے ہیں۔ان کی کہاں کہاں تک پہنچ ہے۔چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ خواجہ آصف آپ کو بعد میں بتا دیں گے کہ کاریں بنانے والوں کی کہاں کہاں تک پہنچ ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ آج بھی ملک میں تین بڑی کمپنیوں کی اجارہ داری ہے۔گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں عوام سے پیسے لے کر بینک میں رکھتی ہیں۔کار مینوفیکچرز عوام کے پیسے پر بینکوں سے منافع کما رہی ہیں۔ہونڈا، ٹویوٹا اور سوزوکی کی لوٹ مار جاری ہے۔گاڑیوں والا معاملہ ڈکیتی ہے۔تینوں کمپنیاں پرانی ٹیکنالوجی استعمال کر رہی ہیں۔بہت ساری چیزیں ہیں جن میں پاکستان خود کفیل ہو سکتا ہے۔پام آئل سمیت فوڈ آئٹمز کی اربوں ڈالرز کی امپورٹ ہو رہی ہے، خواجہ آصف نے مزید کہا کہ پام آئل اور چائے میں پاکستان خود کفیل ہو سکتا ہے۔چیئرمین پی اے سی رانا تنویر نے ملت ٹریکٹر کی کوالٹی پر سوالات اٹھا تے ہوئے کہاکہ ملت ٹریکٹر حکومت کا تھا،نجکاری ہوئی انہوں نے اربوں روپے کما لیے۔ چیئرمین پی اے سی نے مزید کہا کہ کاروں پر پہلے 1لاکھ2لاکھ روپے اون ہوتا تھا اب 7لاکھ روپے تک ہو گیا ہے۔چیف وہپ عامر ڈوگر نے کہا کہ تین سے 5سیٹھ ہیں جو پاکستان کا اربوں کھربوں کھا گئے۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹویوٹا فارچونر پر8لاکھ روپے اون چل رہا ہے۔ عامر ڈوگر نے انکشاف کیا کہ گزشتہ روز کابینہ اجلاس میں اون منی کے حوالے سے بات ہوئی تھی۔پی اے سی نے سیکرٹری وزارت صنعت و پیداوار کو اگلے اجلاس میں طلب کر لیا