اسلام آباد(عمران مگھرانہ)پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس رانا تنویر کی زیر صدارت پارلیمنٹ میں ہوا جس میں کھاد کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے فرٹیلائزر مافیا کے ساتھ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔پی ٹی آئی کے عامر ڈوگر نے کہا کہ فرٹیلائزر کے کاروبار میں 3سے4لوگ بیٹھے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ چینی کے کاروبارمیں 40سے 50خاندان ہیں۔ جس پر خواجہ آصف نے کہا کہ چینی میں 40-50نہیں 10-12خاندان ہیں۔خواجہ آصف نے بتایا کہ اب میاں نواز شریف کی کوئی شوگر ملز نہیں ہیں جبکہ شہباز شریف کی ایک شوگر ملزہے۔
خواجہ آصف نے شوگر ملز مالکان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ چینی جب ایکسپورٹ کرتے ہیں تو سبسڈی بھی ساتھ مانگتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کاٹن میں خود کفیل تھااور ایکسپورٹ بھی کرتا تھا۔خواجہ آصف نے انکشاف کیا کہ ایک سیاستدان نے 3ماہ پہلے چشتیاں شوگر ملز خریدی ہے۔ جس پر کمیٹی ممبران نے کہا کہ نام بھی بتا دیں۔ خواجہ آصف نے بتایا کہ خسرو بختیار گروپ نے چشتیاں شوگر ملز خریدی ہے۔خواجہ آصف نے مزید کہا کہ لوگ گردے بیچ رہے ہیں بچوں کو مار رہے ہیں۔رکن کمیٹی نور عالم خان نے ڈی اے پی کی قیمتوں کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ڈی اے پی9200روپے میں مل رہی ہے۔
بعض دفعہ ڈی اے پی کی بوریوں میں پتھر مل جاتے ہیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ فرٹیلائزر سیکٹر کو کم ترین ریٹ پر گیس فراہم کی جاتی ہے۔ خواجہ شیراز نے کہا کہ ظلم یہ ہے 5ہزار والی ڈی اے پی10ہزار روپے میں دے رہے ہیں۔ خواجہ شیراز نے کمیٹی کو بتایا کہ وہاڑی میں 36ہزار بوریاں کسی نے سٹاک کی ہوئی ہیں۔ رکن کمیٹی خواجہ شیراز نے مزید کہا کہ وفاق کو تو ہمیشہ الزام دیتے ہیں، کبھی صوبوں سے پوچھا ہے ان کا نظام فیل ہو گیا ہے۔صوبوں سے اپوزیشن نہ ہی حکومت پوچھتی ہے۔۔کیا ہم سب نے نشہ پیا ہوا ہے۔عوام ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں۔رکن پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی جانب سے سوال اٹھایا گیا کہ
حکومت نے کہا تھا کی زرعی کنکشن 5روپے فی یونٹ ہو گا جو18روپے پر چلا گیا ہے۔خواجہ شیراز نے مزید کہا کہ واسا کو یونٹ 27روپے کا پڑ رہا ہے۔لوگوں کو پینے کے پانی کی سہولت نہیں، یہاں بیٹھ کر ہم باتیں کر رہے ہیں۔ ایک رکن کمیٹی نے کہا کہ انرجی کا منسٹر سنتا ہی نہیں، ایسے لگتا ہے جیسے بھینس کے آگے بین بجا رہے ہیں۔ جس پر عامر ڈوگر نے دفاع کرتے ہوئے کہا کہ سارے وزیر ایسے ہی ہوتے ہیں، چیئرمین پی اے سی رانا تنویر بھی ایسے تھے۔چیئرمین پی اے سی نے عامر ڈوگر کی بات کی تردیدکرتے ہوئے کہا کہ میں عوامی آدمی ہوں۔ میرے دروازے ہمیشہ عوام کے لیے کھلے رہتے تھے۔
پی اے سی نے یوٹیلٹی اسٹورز پر غیر معیاری اشیاء کی فروخت پر بھی برہمی کا اظہار کیا۔ چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ کورونا فنڈز کا پیسہ جو یوٹیلٹی سٹورز کو دیا گیا تھا یوٹیلٹی سٹورنے غیر معیاری گھی خریدا۔ایسے ایسے ناموں والے گھی خریدے گئے جن کا کبھی نام بھی نہیں سنا تھا۔چیئرمین پی اے سی نے مزید کہا کہ یوٹیلٹی سٹورز نے آٹا بھی ان سے خریدا جو بلیک لسٹ تھے۔