اسلام آباد (عمران مگھرانہ) سینیٹ کی خزانہ کمیٹی کا اجلاس سینیٹر طلحہ محمود کی سربراہی میں ہوا۔ کمیٹی اجلاس کے دوران سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے انکشاف کیا کہ سابق چیئرمین سینیٹ اور موجودہ سینیٹ خزانہ کمیٹی کے ممبرسینیٹر فاروق ایچ نائیک نے بینک میں کریڈٹ کارڈ کے لیے اپلائی کیا تھا جو بینک نے انکار کر دیا ہے۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے بتایا کہ فاروق ایچ نائیک کو کریڈٹ کارڈ سے انکار پی ای پی(پولیٹیکل ایکسپوزڈ پرسن) کی وجہ سے نہیں کیا گیا ہے۔ فاروق ایچ نائیک کے خلاف نیب میں کوئی انکوائری ہے جس کی وجہ سے انہیں کریڈٹ کارڈ نہیں دیا جا رہا۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے مزید کہا کہ فاروق ایچ نائیک سے کہا جا رہا ہے کہ آپ اپنی کریڈٹ کارڈ کی درخواست واپس لیں۔سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کمیٹی کو بتایا کہ فاروق ایچ نائیک اس بات کا ذکر نہیں کرنا چاہتے تھے آج وہ کمیٹی میں نہیں ہیں اس لیے میں نے ذکر کیا ہے۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر طلحہ محمود نے سوال کیا کہ کس بینک میں کریڈٹ کارڈ کے لیے اپلائی کیا تھا جس پر سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے الفلاح بینک کا نام لیا۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر طلحہ محمود نے اسٹیٹ بینک حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ ایک سپریم ادارہ ہے، ممبران پارلیمنٹ کے احترام کومقدم رکھنا چاہیے۔ انہوں نے معاملے کی مکمل انکوائری اور ایکشن کی رپورٹ 15 دن کے اندرطلب کر لی۔