اسلام آباد (عمران مگھرانہ ) اسٹیٹ بینک ایس ای سی پی اور اسٹیٹ بینک کو ڈائریکٹر کی تعیناتی پرنیب کی طرف سے ڈکٹیشن کا معاملہ، نیب ایس ایس سی پی اور اسٹیٹ بینک کو ڈکٹیٹ کر رہی ہے،سینیٹر سلیم مانڈوی والا پھٹ پڑے ۔ تفصیلات کے مطابق سینیٹ خزانہ کمیٹی اجلاس میں سلیم مانڈوی والا نے ایس ای سی پی اور اسٹیٹ بینک کو ڈائریکٹر کی تعیناتی پرنیب کی طرف سے ڈکٹیشن کا معاملہ اٹھایا ، انہوںنے کہا نیب ایس ایس سی پی اور اسٹیٹ بینک کو ڈکٹیٹ کر رہی ہے ، جن کے خلاف انکوائری چل رہی ہے انہیں روک دیا جاتا ہے، ایس ای سی پی بتائے کہ کتنے لوگوں کے ساتھ یہ کیا گیا ہے؟انہوںنے کہا کہ اسٹیٹ بنک بھی اسی پر بریفنگ دےاور بتایا جائے کہ نیب کس قانون کے تحت یہ کر رہا ہے ۔ اس پر اسٹیٹ بینک حکام نے جواب دیا کہ ہم نے اب یہ قانون بدل دیا ہے،اب جب تک کوئی جرم ثابت نہ ہو ڈائریکٹر تعینات ہو سکتا ہے۔سلیم مانڈوی والا بولے ہمیں یہ بتایا جائے کہ ایسا قانون کون بناتا ہے جس پر ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ یہ ایک پرانا قانون ہے،رولز وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل کر دیے جاتے ہیں۔ ایس ای سی پی حکام کا اس حوالے سے کہنا تھاکہ کچھ ایسے قانون ہیں جن کے تحت کسی شخص کے خلاف انکوائری چل رہی ہو تو اسے عہدے پر فائز نہیں کر سکتے،اس پرسینیٹر سلیم مانڈی والا بولے آپ ہمیں یہ بتائیں کہ اب تک کتنے لوگوں کو نیب انکوائریز کی بنیاد پر مسترد کیا گیا؟سلیم مانڈوی والا کے سوال پر ایس ای سی پی حکام کا کہنا تھا ہم نے بھی اب یہ قانون بدل دیا ہے،اب ایسا نہیں ہو گا۔سلیم مانڈوی والا نے اس پر طنز کرتے ہوئے کہا : بڑے تعجب کی بات ہے کہ دونوں اداروں نے ایک ساتھ قانون بدل دیے۔ کمیٹی نے اسٹیٹ بینک اور ایس ای سی پی سے اس قانون کے تحت مسترد شدہ ڈائریکٹرز کی لسٹ مانگ لی ہے ۔