اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) کن غلطیوں کی وجہ سے ہارے ؟کپتان نے غلطیاں تسلیم کرتے ہوئے خود ایکشن میں آنے کا اعلان کر دیا ، KPKمیں PTIکی سیاسی موت ؟ مخالفین نے عمران خان گرد گھیرا تنگ کر دیا ، عروج مل پائے گا یا زوال شروع؟اہم انکشافات ۔
سینئیر صحافی رئوف کلاسرا نے اپنے نئے وی لاگ میں کے پی کے بلدیاتی الیکشن کے نتائج کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان اور ان کی جماعت کی یہ بات قابل تحسین ہے کہ انہوںنے انتخابی نتائج کو کھلے دل سے قبول کیا ہے اور دھاندلی یا الیکشن میں کسی قسم کی مداخلت کا کہہ کر الیکشن نتائج سے آنکھیں چرانے کی کوشش نہیں کی بلکہ
عمران خان نے کہا کہ تحریک انصاف نے پختونخوا بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں غلطیاں کیں اور خمیازہ بھگتا‘انہوں نے کہا کہ ’غلط امیدواروں کا انتخاب ایک کلیدی سبب تھا، اب سے میں پختونخوا کے دوسرے مرحلے سمیت ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات کےحوالے سے تحریکی حکمت عملی کی بذات خود نگرانی کروں گا۔
رئوف کلاسرا کا کہنا تھا کہ عمران خان کے ناقدین اس حوالے سےیہ بھی کہتے ہیں کہ عمران خان کے پاس اس بیان کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں تھاکہ کے پی کے میں تو پچھلے سات آٹھ سال سے خود پی ٹی آئی کی حکومت تھی تو وہ کس منہ سے بلدیاتی الیکشن میں شکست کو دھاندلی کےذریعے کوَر کرنے کی کوشش کرتے تو اچھا کیا کہ تحریک انصاف نے کھلے دل سے شکست قبول کی ۔
رئوف کلاسرا نے کہا بلدیاتی الیکشن میں دھاندلی ناممکن نہیں تاہم بے حد مشکل ہے کیونکہ ان الیکشنز میں ہار جیت اور ایک ایک ووٹ پر قتل تک ہو جاتے ہیں ، ایم این اے لیول پر پھر بھی دھاندلیاں ہوتی ہیں تاہم لوکل لیول پر یہ سب بہت مشکل ہے ۔ رئوف کلاسرا نے کہنا تھا کہ بلدیاتی الیکشن کے فیز 1 میں جے یو آئی اور اے این پی اپنے ریوائول پر مبا رکباد کے مستحق ہیں ۔
اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ الیکشن کیے دوسرے فیز میں کیا تحریک انصاف کم بیک کر سکے گی ؟ اس حوالے سے رئوف کلاسرا کا کہنا تھا کہ کچھ ویزیر مان رہے ہیں کہ شکست کی ایک وجہ ملک میں مہنگائی بھی تھی تاہم عمران خان اب بھی یہی سمجھتے ہیں کہ پاکستان دنیا کا سستا ترین ملک ہے اور شکست کی وجہ ٹکٹوں کی غلط تقسیم ہے ۔ رئوف کلاسرا کا مزید کیا کہناتھا ؟ ویڈیو ملاحظہ کریں :