لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک ) لاہور ہائیکورٹ نے تحفظ والدین آرڈیننس 2021ء کے قانون پر اہم فیصلہ جاری کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے جاری فیصلے میں کہا گیا کہ بچہ کرائے پر ہو یا گھر کا مالک، والدین کو گھر سے نکالے تو جرم ہے، والدین کو گھر سے نکالنے پر بچے کو ایک سال قید اور جرمانہ ہو سکتا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس باقر نجفی کی جانب سے جاری فیصلے میں کہا گیا کہ والدین بچے کو اپنے گھر سے کبھی بھی نکال سکتے ہیں۔
والدین کے نکالنے پر بچہ 7 دن میں گھر خالی کرے ورنہ 1 ماہ کی سزا ہو سکتی ہے۔ واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ میں ایک شہری علی اکرام پر اس کے والد میاں محمد اکرام نے گھر سے بے دخلی کا الزام عائد کیا تھا۔
والد میاں اکرام نے بیٹے علی اکرام کے خلاف ڈپٹی کمشنر کو کارروائی کی درخواست دی تھی جس کے بعد ڈپٹی کمشنر نے والد کو متعلقہ عدالت سے رجوع کی ہدایت کی تھی۔
ڈپٹی کمشنر کے فیصلے کے خلاف اپیلیٹ کورٹ نے ضابطہ فوجداری کی کارروائی کے لیے کیس واپس ریمانڈ کیا۔ اپیلیٹ کورٹ کے فیصلے کے خلاف علی اکرام نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔
اور لاہور ہائیکورٹ نے ڈپٹی کمشنر اور اپلیٹ کورٹ کے فیصلے کالعدم کر دیئے اور ڈپٹی کمشنر کو عدالتی فیصلے کی روشنی میں قانون کے مطابق کارروائی کی ہدایت کر دی۔ واضح رہے کہ حکومت پاکستان نے والدین کو گھروں سے بے دخل کرنے والی بد بخت اولاد کے خلاف قانون سازی کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
بل کے ڈرافٹ کے مطابق حکومت نے والدین کو تحفظ دینے کے لیے (پروٹیکشن آف پیرنٹس بل 2021ء) کے نام سے قانون لانے کا فیصلہ کیا جس کا مقصد بڑھاپے میں والدین کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
قانون کے اطلاق کے بعد کوئی بھی اولاد والدین کو گھر سے بے دخل نہیں کرسکے گی۔ اگر والدین گھر کے مالک ہوں تو وہ بغیر کسی قانونی کارروائی کے نافرمان بچوں کو گھر سے نکالنے کا اختیار رکھیں گے۔
کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے گزشتہ اجلاس میں وزارت قانون انصاف کی جانب سے لائے گئے بل میں بتایا گیا کہ دین اسلام میں بچوں کو والدین کا خیال رکھنے اور ان کی اطاعت کی تلقین کی گئی ہے۔
کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی نے تحفظ والدین بل (پروٹیکشن آف پیرنٹس بل 2021ء) کی منظوری دے دی تھی۔ جس کے بعد صدر مملکت عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 89 کے تحت تحفظ والدین آرڈیننس2021ء جاری کیا۔