کل وزیراعظم عمران خان نے چند سینئر صحافیوں کو کورونا سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات سے آگاہ کیا۔
اس ملاقات میں عمران خان کے دائیں بائیں بیٹھے افراد کو دیکھ کر ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ حکومت کی فیصلہ سازی اب منتخب رہنماؤں کے بجائے غیرمنتخب مصاحب کے ہاتھوں آ گئی ہے۔
وزیراعظم کے ساتھ ڈاکٹر ظفر مرزا، فردوس عاشق اعوان اور مشیر خزانہ حفیظ شیخ کو بیٹھے دیکھ کر دھچکا لگا کہ پی ٹی آئی میں مراد سعید، اسد عمر، شفقت محمود جیسے عوامی رہنماؤں کے بجائے ان سیلکیٹد مشیروں کو ترجیح کس لیے دی گئی؟
پریس کانفرس کے دوران دیکھا کہ ڈاکٹر ظفر مرزا ایک لکھا ہوا کاغذ وزیر اعظم کو دے رہے ہیں اور وہ اسے پالیسی کے طور پر پڑھ کر سنا رہے تھے۔
مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے بھی پریس بریفنگ مپں صحافیوں کو مدعو کرتے وقت عامر متین، محمد مالک، ارشد شریف، کامران خان، حامد میر، شاہزیب خانزادہ، جاوید چوہدری اور دیگر معروف اینکرز کو نظرانداز کر دیا۔
بظاہر یہی تاثر گیا کہ حکومت سخت سوالات کرنے والے صحافیوں کا سامنا کرنے سے گھبرا رہی ہے تاکہ کورونا وائرس کے حوالے سے اپنی نااہلی پر پردہ ڈال سکے۔
عمران خان بھی اپنی پریس کانفرنس میں ان نادان مشیروں کی وجہ سے کنفیوژن کا شکار نظر آئے. انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگ غربت سے مر جائیں گے مگر سوال یہ ہے کہ وزیر اعظم کے مشیروں کے پاس وہ کونسا نسخہ ہے کہ ہم لاک ڈاؤن کیے بغیر کورونا پر قابو پا لیں گے؟
چین نے بھی لاک ڈاؤن کی حکمت عملی اختیار کی اور ایک بڑے علاقے میں پھیلی وبا کو پوری طرح کنٹرول کر لیا ہے۔
اسی طرح دنیا میں جب بھی کوئی آفت آتی ہے تو حکومتیں ان علاقوں کو آفت زدہ قرار دے کر فوری طور پر ٹیکسز ختم کر دیتی ہیں۔
حکومت کو چاہیے کہ ان نادان مشیروں کی بجائے پی ٹی آئی کے الیکشن لڑ کر آنے والے لوگوں کو اپنی مشاورتی ٹیم کا حصہ بنائیں جنہیں عوام کے دکھ سکھ کا احساس ہے اور وہ لوگ اپنے اپنے حلقوں میں لاکھوں کی تعداد میں ووٹرز بھی رکھتے ہیں۔
وہ اپنے علاقوں میں لوگوں کو کورونا سے بچانے کے لیے ضروری قیادت فراہم کر سکتے ہیں اور سماجی فاصلے کی اہمیت اجاگر کر سکتے ہیں۔
حکومت کو راشن پیکج دینے کے ساتھ ساتھ بجلی اور گیس کے فی الحال ایک ایک ماہ کے بل معاف کرنے چاہیے، اس سے عوام کو کافی ریلیف ملے گا۔
یہ بھی بہت ضروری ہے کہ غیر ملکی امداد کو حقیقی معنوں میں عوام تک پہنچایا جائے، اگر عمران خان ان خوشامدی مشیروں کے ذریعے جو اپنے پاؤ گوشت کے لیے پورا اونٹ ذبح کرا دیتے ہیں، اتنی بڑی وباء کا مقابلہ کرنے کا سوچ رہے ہیں تو پھر پاکستانی عوام کا الله ہی حافظ ہے۔
