سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی کارکردگی پر بے شمار سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں مگر ایک بات جو بہت قابل افسوس ہے وہ ان کی حکومت کی ناقص پالیسیاں تھیں۔
عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے وعدے ضرور کیے گئے تھے مگر انہیں پورا کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ 30 برسوں سے زائد پنجاب اور پاکستان پر حکومت کرنے والی ن لیگ نے سستے تندوروں، لیپ ٹاپ اسکیم اور میٹرو پراجیکٹس سے لے کر اورنج لائن ٹرین تک میں اربوں روپے جھونک دیے لیکن ان کی حکومت عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات اور پینے کا صاف پانی فراہم نہ کر سکی۔
شہباز شریف نے حکومت میں آنے سے پہلے بڑے بڑے سپنے دکھائے مگر عملی جامہ نہ پہنا سکے۔ پنجاب کے کم ترقی یافتہ علاقے ہیپاٹائٹس جیسی بیماری میں سر فہرست ہیں مگر میٹرو،اورنج ٹرین اور لیپ ٹاپ کی تقسیم ان کی سب سے بڑی ترجیحات رہیں۔
سابق وزیر اعلیٰ نے اورنج لائن ٹرین کے لئے چین سے 1.626ارب ڈالر قرض حاصل کیا، لوکل فنڈز میں 32ارب روپے زمین کی خریداری، یوٹیلٹی شفٹنگ اور چینی انجینئرز کی سیکیورٹی کی مد میں مختص کئے گئے۔
سوال یہ ہے کہ میٹرو کے بعد اورنج لائن منصوبہ ضروری کیوں سمجھا گیا؟ اگر سیمنٹ اور سریے کا ہی استعمال ضروری تھا تو اس سے پنجاب کے تمام اضلاع میں بہترین ہسپتال بنائے جا سکتے تھے، یونیورسٹیوں کا قیام عمل میں لایا جا سکتا تھا۔ صرف اورنج لائن ٹرین پر خرچ کی گئی رقم سے لاکھوں پاکستانیوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کئے جا سکتے تھے۔
شہباز شریف نے اپنے دور حکومت میں سستے تندوروں کی اسکیم شروع کی تو 13ارب37کروڑ روپے سبسڈی کی مد میں خرچ کئے گئے۔ لاہور میٹرو کو ایک ہی سال میں سوا دو ارب روپے کی سبسڈی دے کر چلانا پڑا۔
اسی طرح میٹرو راولپنڈی کے لیے بھی ایک سال میں سوا دو ارب روپے سے زائد کی سبسڈی دینا پڑی۔ میٹرو راولپنڈی کا ٹریک بنانے کے لیے ساڑھے 44ارب روپے خرچ کیے گئے۔
شہباز شریف نے چار برسوں میں 20ارب روپے لیپ ٹاپ اسکیم میں پھونک ڈالے۔ ان کے دور حکومت میں 4 برسوں میں 4 لاکھ 25 ہزار لیپ ٹاپ کی خریداری کی گئی جن میں سے چار لاکھ چودہ ہزار آٹھ سو اڑتالیس لیپ ٹاپ طلباء میں تقسیم کیے گئے.
لیپ ٹاپ پر خرچ ہونے والے 20ارب روپے سے پنجاب کے 32اضلاع کو کتنا ترقی یافتہ کیا جا سکتا تھا، اس جانب نہ ہی توجہ دی گئی اور نہ ہی اسے ترجیح دی گئی۔اگر یہی 20ارب روپے معیار تعلیم بہتر کرنے پر لگا دیے جاتے تو پنجاب بھر میں یہ نظام کتنا بہتر ہو سکتا تھا۔ 20کروڑ روپے کو مساوی حصوں میں بھی تقسیم کیا جاتا تو سوا 62کروڑ روپے ہر ضلع کو حصہ ملتا۔ ہر ضلع پر سوا 62کروڑ روپے لگا دیے جاتے تو کم از کم بنیادی مسائل پر تو قابو پا لیا جاتا۔
یونیورسٹی طلباء کو لیپ ٹاپ کی کتنی ضرورت ہوتی ہے۔ جب میں یو کے میں سٹڈی کر رہا تھا تو یونیورسٹی لائبریری میں اتنی تعداد میں کمپیوٹر موجود تھے کہ آپ جس وقت بھی جائیں آپ کو کوئی نہ کوئی کمپیوٹر مل جاتا تھا جس پر یونیورسٹی کی طرف سے فراہم کی گئی آئی ڈی لگا کر آپ اپنا کام کر سکتے تھے اور آپ کی آئی ڈی پر ڈیٹا محفوظ ہو جاتا تھا کہ آپ یونیورسٹی کے کسی بھی کمپیوٹر پر لاگ ان ہو سکتے تھے اور اپنی اسائنمنٹ بنا سکتے تھے۔
یونیورسٹی کی لائبریری رات گئے تک کھلی رہتی تھی اور امتحانات کے دنوں میں چوبیس گھنٹے کے لیے سہولت موجود تھی۔ میں نے اپنی ڈگری لیپ ٹاپ کی سہولت کے بغیر صرف یونیورسٹی کے کمپیوٹر پر اکتفا کر کے مکمل کی۔
صرف میں اکیلا پاکستانی نہیں تھا جس کے پاس لیپ ٹاپ نہیں تھا بلکہ میرے جیسے سینکڑوں پاکستانی اور بھارتی یونیورسٹی فیلو تھے جن کے پاس لیپ ٹاپ نہیں تھا یا پھر وہ لیپ ٹاپ کی ضرورت محسوس نہیں تھے۔
یہ وہ طلباء تھے جو دس سے پندرہ لاکھ روپے فیس ادا کر کے وہاں پہنچے تھے اور شاید ہی کوئی ایسا طالب علم ہو جو لیپ ٹاپ خریدنے کی سکت نہ رکھتا ہو۔
لندن سے واپس آ کر میں نے پاکستان میں ایم فل شروع کیا تو میرے تمام کلاس فیلوز نے لیپ ٹاپ حاصل کرنے کے لئے آن لائن درخواست جمع کرائی۔ شاید میں اکیلا تھا جس نے میرٹ پر ہونے کے باوجود اپلائی نہیں کیا۔
جب ہمارا ایم فل مکمل ہونے کے قریب تھا تب میرے کلاس فیلوز کو پنجاب حکومت کی طرف سے لیپ ٹاپ تقسیم کیے گئے۔ ڈگری مکمل ہونے کے قریب تھی اور شاید ہی ان لیپ ٹاپ کا ڈگری کے لیے کہیں کوئی استعمال ہوا ہو، پھر بھی سیاسی مقاصد کے لیے عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ ضائع کرنا ضروری سمجھا گیا۔
پاکستان میں لیپ ٹاپ کا زیادہ تر استعمال فیس بک کے لیے کیا جاتا ہے۔ لیپ ٹاپ حاصل کرنے کے بعد کتنے طلباء نے ریسرچ کی ہو گی یہ بات سب ہی جانتے ہیں، آپ کے کسی نہ کسی جاننے والے کو تو لیپ ٹاپ ملا ہو گا اور آپ اس لیپ ٹاپ کے استعمال سے بخوبی آگاہ بھی ہوں گے۔
اگر انہی پیسوں سے یونیورسٹویز کے اندر لائبریری میں کمپیوٹر کی مکمل سہولیات فراہم کر دی جاتیں تو ہر سال آنے والے طلباء کو یہ سہولت بھی ملتی رہتی اور بار بار اخراجات بھی نہ ہوتے۔
پاکستان تب تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک ترجیحات نہ تبدیل کی جائیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے بھی شہباز شریف کے نقشِ قدم پر چلنا ہے تو اس ملک کا خدا ہی حافظ ہے۔
ویسے بھی سوا چار لاکھ لیپ ٹاپ، میٹرو اور اورنج ٹرین تک شہباز شریف کو پنجاب اور وفاق میں حکومت نہ دلوا سکے تو ان سے عمران خان کو بھی کوئی مدد نہیں ملے گی۔
کورونا جیسی وباء سے نمٹنے کے لئے ن لیگ دور حکومت کے بنائے گئے ہسپتال تو ناکافی ہیں اور ہسپتال بنانا شہباز شریف کی ترجیحات میں شامل بھی نہیں تھا تو کیا اب اورنج لائن ٹرین، میٹرو، لیپ ٹاپ سے کرونا وائرس کے مریضوں کا علاج کیا جائے۔
اب وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ انہوں نے ماضی کے حکمرانوں کے نقش قدم پر چل کر اربوں روپے کے لیپ ٹاپ تقسیم کرنے ہیں یا پھر ہر ضلع کو صحت، معیاری تعلیم اور بہتر معیار زندگی کی سہولیات دینی ہیں۔
ووٹ کارکردگی پر ہی ملیں نہ کہ لیپ ٹاپ تقسیم کرنے پر۔ باقی سیاستدانوں نے کرنی اپنی مرضی ہوتی ہے۔

Good information