اسلام آباد: پاکستان بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 645 تک پہنچ گئی ہے۔
قومی ادارہ صحت کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کے 487 مریض اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔
اس وقت تک کورونا کے پانچ مریض صحت یاب ہو کر گھر واپس جا چکے ہیں جبکہ چار افراد زندگی کی بازی ہار گئے ہیں۔
قومی ادارہ صحت کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد میں 10، پنجاب میں 152 جبکہ سندھ میں 292 مریض زیرعلاج ہیں۔
رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا میں 31، بلوچستان میں 104، آزاد کشمیرمیں 1 اورگلگت بلستان میں 55 مریضوں کا اسپتالوں میں علاج ہو رہا ہے۔
گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ملک بھر سے 34 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
کور ونا وائرس کے شکار امریکی شہری کی درد بھری داستان
مودی کا کرفیو کا اعلان، عمران خان ہچکچاہٹ کا شکار
کورونا وائرس سے بچنے کیلئے دنیا کے امیرترین افراد کیا کر رہے ہیں؟
یاد رہے کہ حکومت پاکستان اور طبی ماہرین عوام سے بارہا اپیل کر چکے ہیں کہ وہ بلاضرورت گھروں سے نہ نکلیں اور میل جول سے پرہیز کریں۔
ختلف میڈیا رپورٹس اور عالمی اداروں کے تخمینوں میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس وبا کے باعث پاکستانی معیشت کو مختلف شعبوں میں 1300 ارب روپے تک نقصان ہوسکتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے سروسز سیکٹر میں گراوٹ سمیت ائیر لائن کاروبار میں کمی، ایف بی آر کے ریوینیو نقصانات،برآمدات اور ترسیلات زر میں بھاری کمی جیسے عوامل سے جی ڈی پی نمو کم ہوسکتی ہے۔
چھ مارچ 2020ء کوایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے جاری رپورٹ میں کورونا وائرس کی وجہ سے پاکستان کے ممکنہ معاشی نقصان کا تخمینہ ڈیڑھ کروڑ ڈالرز سے6کروڑ ڈالرز لگایا گیا تھا۔ تاہم اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ کورونا وائرس کے زیادہ پھیلاؤ سے پاکستانی معیشت کو 5ارب ڈالرز مالیت تک نقصان ہوسکتا ہے۔
دی نیوز انٹرنیشنل میں شائع ہونیوالی ایک رپورٹ میں ایف بی آر حکام کے حوالہ سے انکشاف کیا گیا ہے کہ اگر کراچی کا لاک ڈاؤن جون2020ء تک رہا تو اس سے 380 ارب روپے مالیت تک ٹیکس نقصانات ہوسکتے ہیں۔
ایشیائی ترقیاتی بنک کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے عالمی سطح پر معیشت کو 347ارب ڈالرز مالیت تک نقصانات متوقع ہیں۔
