اسلام آباد: اسلام آباد کے مشہور اسپتال پمز کے ڈاکٹروں نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج اور دیکھ بھال کے لیے مناسب حفاظتی لباس تک نہیں دیا گیا۔
اس رپورٹر سے بات کرتے ہوئے آئسولیشن وارڈ کے ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ حفاظتی لباس کے بغیر وہ کیسے مریض کے قریب جا سکتے ہیں، اس سے تو وہ خود اور دیگر اسٹاف خطرے میں پڑ جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لوگ ہم پر تنقید کررہے ہیں لیکن ہمیں بتایا جائے کہ ہم کدھر جائیں اور کیا کریں کیونکہ کورونا وائرس سے سب سے بڑا خطرہ ڈاکٹروں کو ہے۔
ڈاکٹر صاحب نے اپنا نام ظاہر کرنے سے منع کرتے ہوئے کہا کہ اگر خدانخواستہ کسی ایک ڈاکٹر کو بھی کوورنا وائرس ہوگیا تو پھر سب مریض، ان کے لواحقین اور دیگر وزٹر بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس مطلوبہ سہولتیں موجود نہیں ہیں، وہ روزانہ انتظامیہ کو کہتے ہیں کہ انہیں مطلوبہ لباس دیا جائے لیکن ابھی تک کچھ نہیں کیا گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ روزانہ OPD میں سینکڑوں لوگ آ رہے ہیں اور یہ ایک طرح سے ویسی ہی صورت حال ہے جو تفتان باڈر پر ہے جہاں کوئی بھی ڈاکٹر متاثر ہوسکتا ہے جس کے بعد وہ وائرس پھیلاتا رہے گا۔
پمز کے ڈاکٹر کا کہنا تھا ان حالات میں فوری طور پر اسپتال کی OPD بند کر دی جائے تاکہ وائرس نہ پھیلے۔ صرف ایمرجنسی کو کھلا رکھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ وسائل کم ہیں لیکن زیادہ خطرے کی بات یہ ہے کہ کورونا کی وبا کے معاملے میں بہت شدید غلطیاں کی جا رہی ہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ ابھی مریض کا کیا علاج کرتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ چونکہ ابھی اس وائرس کا کوئی علاج نہیں ہے لہذا زیادہ تر اسکرینگ کی جاتی ہے۔ مریض کی ٹریول ہسٹری اور علامات چیک کی جاتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا ابھی اسپتال میں کوورنا وائرس کے مریضوں کے لیے دس بیڈز مختص ہیں اور ان تمام پر مریض موجود ہیں ہیں جبکہ وینٹی لیٹرز صرف دو ہیں۔
انہوں نے شکوہ کیا کہ جب تک ڈاکٹروں کو حفاظتی لباس اور دیگر چیزیں نہیں ملیں گی وہ کیسے ڈیوٹی دے سکتے ہیں، اس وبا کے دوران سب سے بڑا خطرہ انہی ڈاکٹروں کو ہے جن کی کسی کو پرواہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس حکومت پنجاب حکومت اس معاملے کو وفاقی حکومت کی نسبت بہتر انداز میں ہینڈل کر رہی ہے اور اس کی تیاری بہتر ہے۔
