سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں چین میں زیرتعلیم ایک پاکستانی طالب علم نے کورونا وائرس کے حوالے سے بہت اہم باتیں کی ہیں۔
ریحان نامی یہ نوجوان ووہان یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی کر رہا ہے، اس کا کہنا ہے کہ گرمی اس کے پھیلاؤ کی رفتار تو کم ہو سکتی ہے لیکن یہ وائرس ختم نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ آسٹریلیا اور خلیجی ممالک میں اس وقت گرمی ہے لیک وہاں بھی یہ وبا پھیل رہی ہے۔
پاکستانی طالب علم نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کی شرح چین میں دو سے ڈھائی فیصد رہی ہے اس کی وجہ چینی حکومت اور عوام کی محنت ہے۔ پاکستان جیسے معاشرے میں یہ دس بارہ فیصد ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ نارمل فلو نہیں ہے بلکہ بہت خطرناک وائرس ہے جس کا علاج ابھی تک کہیں بھی نہیں ہے، صرف اسے پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔
ویڈیو میں انہوں نے بتایا کہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ مختلف صورتوں میں ہو سکتا ہے، اگر اس سے متاثرہ شخص چھینکتا ہے اور اس کے قطرے کسی سطح پر جاتے ہیں، اسے جو بھی چھوئے گا اس وائرس کا شکار ہو جائے گا۔
ریحان نے کہا کہ چھینک سے نکلنے والے قطرے کافی دیر ہوا میں بھی معلق رہتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ چھینکتے وقت کہنی کو سامنے کر لیا جائے، ہاتھوں پر یہ قطرے کسی صورت نہیں جانے چاہئیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اسی طرح یہ بہت ضروری ہے کہ ہر شخص گھر میں رہے اور بلاضرورت باہر نہ نکلے، اگر کہیں جانا پڑے تو ہر صورت ماسک پہن کر جائے۔
طالب علم کے مطابق گھر کے صرف ایک فرد کو ہر بار باہر جانا چاہیے، اسے ہر بار ایک لباس الگ سے پہننا چاہیے اور جوتے علیحدہ رکھنے چاہئیں۔
گھر واپس آتے ہوئے جوتے اور لباس باہر رکھ دیں، پہلے اپنے ہاتھ اچھی طرح دھوئیں اور لباس تبدیل کریں، باہر رکھے لباس کو ہر بار اچھی طرح دھوئیں اور اس دوران گھر کے ہر فرد سے دور رہیں۔
انہوں نے کہا کہ 50 سال کی عمر والے یا کسی بیماری کا شکار ہونے والے افراد کے لیے یہ وائرس مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔
طالب علم کا کہنا ہے کہ باہر جاتے وقت جو ماسک پہنا ہوا ہے اسے واپسی پر ضائع کر دیں، گھر والوں کو منع کریں کہ وہ دروازے کے ہینڈل وغیرہ کو نہ چھوئیں۔
انہوں نے کہا کہ باہر نکلتے وقت ہر شخص سے چھ فٹ کا فاصلہ رکھنا ضروری ہے، اسی طرح گاڑی میں کسی اجنبی کو نہ بٹھائیں کیونکہ یہ وائرس ایک زنجیر کی طرح کام کرتا ہے، آپ کو اس زنجیر کا حصہ بننے سے بچنا ہے۔
ریحان نے زور دے کر کہا کہ ہاتھ بار بار دھوئیں، گرم پانی زیادہ سے زیادہ پئیں۔ ایک ایک گھونٹ کر کے پئیں۔ گلے کو خشک نہ ہونے دیں۔ یہ وائرس گلے میں گھر بناتا ہے اسے خشک نہ رکھیں۔
پاکستانی طالب علم نے چین کے تجربے کی مثال دیتے ہوئے اہم بات بتائی کہ دنیا کی کوئی بھی حکومت کورونا کے پھیلاؤ کو نہیں روک سکتی، عوام کو خود اسے پھیلنے سے روکنا ہے اور اس کا طریقہ الگ تھلگ رہنا اور احتیاطی تدابیر کرنا ہے۔
