وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے پی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سول انتظامیہ کی مد د کے لیےخصوصی طور پر پاک فوج کی مدد طلب کی ہے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی اقدامات کے ساتھ عوام بھر پور تعاون کریں اور سماجی فاصلہ رکھیں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ صوبے میں کسی قسم کی غذائی قلت نہیں ہے اور ایڈمنسٹریشن ہر جگہ پر موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبائی وزراء تمام اضلاع میں موجود ہیں جو اپنی میٹنگز کے ساتھ سہولیات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔
عثمان بزدار نے کہا کہ ایکسپو سنٹر کے اندر 1000 بستروں پر مشتمل اسپتال بنانے جا رہے ہیں اور امید ہے کہ اپنی بھر پور کوشش کے ساتھ کورونا وائرس کی وباء سے بہتر طریقے کے ساتھ نمٹ سکیں گے۔
کورونا وائرس کے دوران ہمارے پھیپھڑوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟
کورونا وائرس، پنجاب حکومت نے جزوی لاک ڈاؤن کا حکم جاری کر دیا
کیا گرمی کے موسم میں کورونا وائرس ختم ہوجائے گا؟
یاد رہے کہ اس وقت تک پاکستان میں کورونا وائرس کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 645 تک پہنچ چکی ہے جبکہ معاون خصوصی برائے صحت ظفر مرزا نے چار ہزار مشتبہ کیسز کا اندازہ ظاہر کیا ہے۔
پنجاب میں اب تک کورونا کے مریضوں کی تعداد 152 تک پہنچ چکی ہے، سندھ میں یہ تعداد 292 مریضوں کے ساتھ سب سے زیادہ ہے۔
اس سے قبل کورونا وائرس سے بچاؤ کے احتیاطی اقدمات کے تحت حکومت پنجاب کی جانب سے جزوی لاک ڈاؤن کے احکامات جاری کر دیے تھے۔
محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے دفعہ 144 کے تحت نیا حکمنامہ جاری کر دیا گیا جس کے مطابق تمام شاپنگ مالز، مارکیٹس اور ہوٹلز 21 مارچ رات نو بجے سے 24 مارچ صبح 9 بجے تک بند رہیں گے۔
جزوی لاک ڈاؤن میں فارمیسی، ڈسپنسری، کلیکنک، کریانہ سٹور، بیکری، تندور، دودھ، مرغی گوشت، سبزی فروٹ شاپس، آٹو ورکشاپس اور اشیائے خورونوش کی منڈیوں کو استثناء ہو گی اور یہ دوکانیں /منڈیاں کھلی رہی گی جبکہ ہوٹلز کی ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری کی سہولیات پر پابندی لاگو نہیں ہو گی۔
